.

دمشق کے قدیم حصے میں کاربم دھماکا،13 افراد ہلاک

مصروف علاقے میں پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک اور کم سے کم تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

شامی حکام کے مطابق اتوار کو بم دھماکا دمشق کے قدیم حصے میں واقع مصروف کاروباری علاقے باب توما میں ہوا ہے۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے تیرہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق بارود ایک کار میں نصب کیا گیا تھا اور اس کے پھٹنے کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا ہے۔آبزرویٹری نے دس افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

حکام کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ کار بم حملے میں پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔تاہم بارود سے بھری ٹیکسی کار پولیس اسٹیشن سے پچاس گز دور دھماکے سے پھٹ گئی۔باب توما میں زیادہ تر عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی آباد ہے۔

دمشق کے اس علاقے میں صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ بیس ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران یہ پہلا بم دھماکا ہے۔اس کے نتیجے میں متعدد کاروں کو آگ لگ گئی اور واقعے کے فوری بعد شامی سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرے کرلیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے مرنے والوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

درایں اثناء شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کو شام کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک سو تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور شمالی صوبہ ادلب کے شہر معرۃ النعمان اور اس کے نواحی علاقوں میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔