.

مقتول جنرل وسام الحسن کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

حزب اختلاف کا میقاتی حکومت سے مذاکرات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دو روز قبل کاربم دھماکے میں قتل ہونے والے انٹیلی جنس چیف جنرل وسام الحسن کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

لبنان کے اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنرل وسام الحسن کو بیروت کے شہداء اسکوائر میں سابق مقتول وزیراعظم رفیق حریری کے پہلو میں دفن کردیا گیا ہے۔ان کی نماز جنازہ کے موقع پر بعض جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

درایں اثناء لبنان کی حزب اختلاف نے داخلی سکیورٹی کے سربراہ کے قتل کے واقعہ کے بعد وزیراعظم نجیب میقاتی کی قیادت میں حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعظم نجیب میقاتی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ وہ ملک میں قومی اتفاق رائے کی نئی حکومت کے قیام کے لے مستعفی ہونے کو تیار تھے لیکن انھوں نے صدرمشعل سلیمان کی درخواست پر سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے مذاکرات کو موقع دینے کی غرض سے حکومت نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیروت میں تباہ کن کاربم دھماکے میں انٹیلی جنس چیف جنرل وسام الحسن کے قتل کے واقعہ کا ان کے ایک حالیہ کیس سے تعلق ہے جس میں انھوں نے شام کی جانب سے لبنان میں بحران پیدا کرنے کی سازش کو بے نقاب کیا تھا۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے لبنانی سکیورٹی چیف کے قتل کو شامی المیے کی توسیع قرار دیا ہے۔انھوں ایک بیان میں کہا کہ ''میرے خیال میں شام میں جو کچھ رونما ہورہا ہے،بیروت میں بم دھماکا اس کا حصہ ہے اور اس سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ بشارالاسد کی فوری رخصتی کیوں ضروری ہے؟''

بیروت میں جمعہ کو کار بم دھماکے میں لبنان کی داخلی سکیورٹی فورسز کے جاں بحق ہونے والے سربراہ دمشق مخالف سابق وزیراعظم سعد حریری سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔سعد حریری نے شامی صدر بشارالاسد پر بم دھماکے میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا کہ مقتول جنرل لبنان کی سکیورٹی کے ضامن تھے۔انھوں نے اپنے حامیوں سے جنرل وسام الحسن کے جنازے میں شرکت کی اپیل کی تھی۔

ان کے اندوہناک قتل کے بعد لبنان میں ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جارہی ہے۔سعد حریری کی قیادت میں لبنانی حزب اختلاف شامی صدر بشارالاسد کی شدید مخالف کررہی ہے جبکہ میقاتی حکومت میں بالادستی کی حامل شیعہ جماعت حزب اللہ شامی حکومت کی دامے ،درمے، سخنے حمایت کررہی ہے۔

سرکردہ مسیحی سیاسی لیڈر سمیر جیجا نے لبنانی حکومت سے شام کے ساتھ ماضی میں طے پائے تمام فوجی معاہدے ختم کرنے اوربیروت سے شامی سفیر کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔لبنان کے دروز لیڈر ولید جنبلاط نے بھی شامی صدر بشارالاسد کو جنرل وسام کے قتل کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی نے اگست میں لبنان کے سابق وزیراطلاعات مشعل سلامہ کی گرفتاری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔مسٹر سلامہ شام سے قریبی روابط رکھتے تھے اور ان پر لبنان میں بم دھماکوں کی منصوبہ کرنے اور دھماکا خیز مواد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

مقتول جنرل وسام الحسن کی سربراہی میں لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی فروری 2005ء میں سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد 2008ء تک ہوئے خودکش کار بم حملوں، قاتلانہ حملوں اور بم دھماکوں میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور ان سے تفتیش کے لیے بھی کام کررہی تھی۔