.

نیتن یاہو کا مقبوضہ القدس میں تعمیرات جاری رکھنے کا اعلان

یورپی یونین کی جانب سے یہودی بستیوں کی مخالفت کے باوجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مسلمانوں کے قبلہ اوّل مقبوضہ بیت المقدس میں کسی رکاوٹ کے بغیر یہودی دراندازوں کے لیے تعمیرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

صہیونی وزیراعظم نے اتوار کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ''ہم مقبوضہ بیت المقدس میں عمارتوں کی تعمیر پر کوئی تحدیدات نہیں لگا رہے ہیں۔یہ ہمارا دارالحکومت ہے''۔

انھوں نے یورپی یونین کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی مخالفت کے باوجود کہا کہ ''جس طرح لندن، پیرس، واشنگٹن اور ماسکو کے دارالحکومتوں میں وہاں کی حکومتیں تعمیرات کررہی ہیں،بالکل اسی طرح اسرائیل بھی مقبوضہ بیت المقدس میں عمارتیں تعمیر کرے گا''۔

اسرائیل کی وزارت داخلہ نے گذشتہ جمعرات کو مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع ایک یہودی بستی گیلو میں سات سو ستانوے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے اسرائیل کے اس فیصلے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ''بین الاقوامی قانون کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں اور ان سے تنازعے کے دو ریاستی حل کے ممکن العمل ہونے کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں''۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر1967ء کی چھے روزہ جنگ میں قبضہ کرلیا تھا اوربعد میں اس کوصہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا۔یہ شہر مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔اسرائیل اب اس شہر کو اپنا دارالحکومت قراردیتا ہے لیکن اقوام متحدہ اور امریکا سمیت عالمی برادری نے کبھی اس کے اس دعوے کوتسلیم نہیں کیا۔

اس وقت مشرقی بیت المقدس اور اس کے نواحی علاقوں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ فلسطینی رہ رہے ہیں جبکہ دولاکھ اسرائیلیوں کو اس شہر میں لابسایا گیا ہے۔انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ کسی امن سمجھوتے کے تحت اس شہر کو تقسیم کرنے یا اسے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت بنانے کے مطالبات کو مسترد کرچکی ہےجبکہ فلسطینی اس شہر کو اپنی مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ اور مغربی قوتوں کا کہنا ہے کہ اس شہر کی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے لیکن فی الوقت یہ مذاکرات اسرائیل کی کہہ مکرنیوں اور چیرہ دستیوں کی وجہ سے منقطع ہیں۔