.

ایٹمی پروگرام رول بیک نہیں کر سکتے، حکومت پابندیوں کا مقابلہ کرے جنرل جعفری

پاسداران انقلاب کے چیف کی صدر نژاد پر سخت برہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی پاسداران انقلاب کے چیف جنرل محمد علی جعفری نے تہران کی جانب سے ایٹمی پروگرام پر مغربی شرائط پر بات چیت کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی پروگرام کسی صورت میں رول بیک نہیں ہو گا۔ تہران حکومت کوعالمی اقتصادی پابندیوں کے سامنے سپر ڈالنےکے بجائے ان کا پوری جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے جنوب میں مذہبی مرکز قُم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل جعفری نے کہا کہ ’’ہم مغرب کی مسلط کردہ اقتصادی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں اس جنگ میں پوری قوت سے مزاحمت کرنی چاہیے۔ ہمیں مغرب کی پابندیوں کے خلاف بھی ایسے ہی لڑنا ہے جیسے ہم سنہ 1980ء سے 1988ء تک عراق کےخلاف بر سر پیکار رہے ہیں‘‘۔



جنرل محمد علی جعفری نے صدر محمود احمدی نژاد پر بھی سخت تنقید کی اور ان کی جانب سے مغربی شرائط پر بات چیت کی تجاویز کو مسترد کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایٹمی پروگرام ایران کے تحفظ کی علامت ہے، اسے رول بیک نہیں ہونے دیں گے۔ صدر احمدی نژاد کی جانب سے امریکا اور مغرب کے ساتھ براہ راست بات چیت لیے یورنیم افزودگی میں کمی کرنے کی تجاویز ناقابل عمل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن شخصیات نے واشنگٹن کی طرف بات چیت کا ہاتھ بڑھایا انہوں نے ایرانی اسلامی انقلاب سے اپنا ناطہ توڑ لیا۔



یاد رہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے گذشتہ مہینے نیویارک میں ہوئے جبرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم امریکا کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ہمیں امریکی قوم سے کوئی شکایت نہیں بلکہ امریکی حکمرانوںسے ہے جوپوری دنیا میں من پسند نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔



احمدی نژاد کی جانب سے امریکیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کے اعلان نے ایران میں قدامت پسند حلقوں میں سخت اضطراب پیدا کیا ہے۔ صدر نژاد کے اس بیان کے بعد انہیں پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) میں اس کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاہم گذشتہ ہفتے ایرانی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد میں تجویز دی تھی کہ صدر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سامنے جواب دہ ہیں اور انہیں مرشد اعلیٰ کے سامنے ہی اپنے بیان کی وضاحت کرنی ہو گی۔