.

دمشق، حلب میں جھڑپیں، عید سے قبل جنگ بندی کے امکانات معدوم

شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان خونریز لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی فوج نے صوبہ دمشق اور شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔ ان دونوں صوبوں میں فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ عرب لیگ کے ایک سنئیر عہدے دار کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے امکانات معدوم ہیں۔

دمشق کے شمال مشرق میں واقع قصبے حرستا میں فوج اور باغیوں کے درمیان اتوار سے جھڑپیں جاری ہیں۔اب تک لڑائی اور سرکاری فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں بیسیوں شہری اور باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔

شمالی شہر حلب کے وسطی علاقے میدان ،شمالی علاقے عزہ اور جنوب مغربی علاقے صلاح الدین میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ شام کے دوسرے بڑے شہر میں موجود فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ وہاں اتوار کی سہ پہر سے ڈیڑھ دن کے تعطل کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔

شام کی ڈی ایس ایل سروسز مہیا کرنے والی کمپنی کے ایک ٹیکنیشن نے بتایا ہے کہ سراقبہ اور معرۃ النعمان کے درمیان مرکزی کیبل میں ایک مسئلہ پیدا ہو گیا تھا اور اسے اب دور کر دیا گیا ہے۔

شمال مغربی صوبہ ادلب کا شہر معرۃ النعمان حلب اور دمشق کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔اس شہر پر نو اکتوبر کو باغیوں کے قبضے کے بعد سے شدید لڑائی ہورہی ہے۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اتوار کو ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں باسٹھ سرکاری فوجیوں اور چھیالیس باغیوں سمیت ایک سو تہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

درایں اثناء عرب لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل احمد بن حلی کا کہنا ہے کہ شام میں عیدالاضحیٰ سے قبل باغی جنگجوؤں اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے بہت کم امکانات ہیں۔

انھوں نے دبئی میں ایک کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''حکومت کے ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے لیے کوئی حقیقی خواہش نہیں پائی جاتی''۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ شامی حکومت عید کے ایام کے دوران لڑائی روکنے کے لیے مثبت اقدام کرے گی۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے شامی حکومت اور تمام اپوزیشن گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے الاخضر الابراہیمی کی تجویز کو قبول کر لیں۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے دمشق میں اتوار کو شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے شامی صدر اور حزب اختلاف پر عیدالاضحیٰ سے قبل ملک میں یک طرفہ جنگ بندی پر زور دیا تھا۔ انھوں نے شامی تنازعے کے تمام فریقوں سے یک طرفہ جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا (اتوار) یا سوموار سے احترام کیا جانا چاہیے لیکن ابھی تک متحارب فریقوں کی جانب سے اس تجویز پر ردعمل کے حوالے سے کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔