.

لبنانی فوج کشیدگی والے علاقوں میں فیصلہ کن اقدام کرے گی

ملک نازک دور سے گزر رہا ہے: بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ سنئیر انٹیلی جنس افسر کے قتل کے بعد قوم اس وقت نازک دور سے گزر رہی ہے اور وہ افراتفری کے شکار علاقوں میں فیصلہ کن اقدام کرے گی۔

لبنانی فوج نے ملک کے مختلف علاقوں میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ''ہم تمام سیاسی لیڈروں پر زور دیں گے کہ وہ اپنے موقف اور آراء کے اظہار کے وقت خبردار رہیں۔ فوج شدید کشیدگی والے علاقوں میں افراتفری سے بچنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گی''۔

بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ ''حالیہ پیش آنے والے واقعات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔بعض علاقوں میں کشیدگی اپنی انتہائی سطح کو پہنچ چکی ہے اور اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی''۔

درایں اثناء دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے میں فائرنگ سے پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ سنی آبادی والے علاقے طارق الجدیدہ میں پیش آیا ہے۔ مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اس واقعہ کے بعد فوج نے علاقے کی جانب جانے والی شاہراہوں کو بند کر دیا ہے۔

گذشتہ روز لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ مقتول بریگیڈئیر جنرل وسام الحسن کی نماز جنازہ کے بعد سیکڑوں مشتعل افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور وزیر اعظم نجیب میقاتی کے دفتر پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد رات بھر بیروت کے مختلف علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیروت کے جنوبی علاقوں میں اتوار اور سوموار کی درمیانی شب بندوقوں اور راکٹ گرینیڈوں سے مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہی ہیں۔

لبنان کے وزیر داخلہ مروان شربیل نے اتوار کو پیش آئے واقعات کو گذشتہ جمعہ کو بریگیڈئیر جنرل وسام الحسن کے کاربم دھماکے میں قتل کے واقعہ کا جذباتی ردعمل قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''فوج اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار مسلح افراد کو گرفتار کر رہے ہیں اور ان کے کیس عدلیہ کو بھیج رہے ہیں۔ سوموار کو ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی''۔

ادھر لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں عکا کے مفتی شیخ اسامہ رفاعی کی جنرل وسام الحسن کے جنازے کے موقع پر تندوتیز تقریر کے بعد مسلح افراد مشتعل ہوگئے اور انھوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک پندرہ سالہ لڑکا جاں بحق ہو گیا۔