.

لیبیا میں مشتعل افراد کا نجی ٹی وی اسٹیشن پر حملہ، توڑ پھوڑ

عملے نے دوسری منزل سے کود کر جانیں بچائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا میں دو روز قبل سابق مقتول صدر کرنل معمر قذافی کے چھوٹے صاحبزادے خمیس القذافی کے حکومتی فورسز کے ہاتھوں قتل کے بعد مشتعل مظاہرین نے باغیوں کے ترجمان ٹی وی پر حملہ کر کے اس میں توڑ پھوڑ کی اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے خمیس القذافی کے قتل کے لیے بنی ولید میں کیے گئے فوجی آپریشن کو براہ راست دکھائے جانے پر سخت احتجاج کیا۔ اتوار کی شام مظاہرین کے ایک مشتعل ھجوم نے باغیوں کے مرکزی شہر بنغازی میں ’’فری ٹیلی ویژن چینل‘‘ کے دفتر پر دھاوا بول دیا۔ لٹھ بردار مظاہرین نے دفتر کا سامان توڑا اور کئی اہم فائلوں کو تلف کر دیا۔ خیال رہے کہ لیبیا فری ٹیلی ویژن چینل کی نشریات کرنل قذافی کے قتل کے بعد شروع کی گئی تھیں، یوں ٹی وی کو انقلابیوں کا ترجمان خیال کیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ورفلہ قبیلے کے کچھ لوگوں نے بنغازی میں زیپی ہوٹل کے باہر احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا۔ انہی مظاہرین میں سے کچھ مشتعل افراد نے ٹی وی اسٹیشن پر بھی حملہ کر دیا۔ انہوں نے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور کئی اہم نوعیت کی فائلوں اور ریکارڈ کو آگ لگا دی۔

ٹی وی کا عملہ اور صحافی دفتر کی عمارت کی دوسری منزل میں محصور ہو گئے تھے انہوں نے دفتر کی عقبی کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا کر جانیں بچائیں۔ چھلانگیں لگانے کےباعث کئی صحافی معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ محاصرہ توڑ کر باہر نکلنے والے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ ہمیں مظاہرین کی جانب سے گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔ قریب تھا کہ مشتعل افراد ہمیں قتل

کر دیتے ہم نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائی ہیں۔

العربیہ کے مطابق بنی ولید میں جمعرات اور جمعہ کے روز کئے گئے آپریشن میں سابق مقتول صدر کرنل معمر قذافی کے سب سے چھوٹے بیٹے خمیس القذافی کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے انتقال کی اطلاع آئی۔ خمیس کے قتل کی خبر سب سے پہلے توڑ پھوڑ کا نشانہ بننے والے اسی ٹی وی چینل نے بریک کی تھی، جس پر لوگ ٹی وی کے دفتر پر چڑھ دوڑے تھے۔