.

اصلاحات کے لیے اقتدار میں ہوں، کنٹرول کے لیے نہیں شاہِ اردن

بر سر اقتدار رہتے ہوئے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا ہے کہ ان کا ہاشمی خاندان ملک پر محض کنٹرول کے لیے بر سر اقتدار نہیں ہے بلکہ اصلاحات کے لیے اقتدار میں ہے اور یہ کہ انھیں حکمرانی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

انھوں نے عمان میں ایک کانفرنس میں شریک تین ہزار سے زیادہ اردنیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ''وہ سیاسی اقتدار کے لیے منفی جدوجہد کے بجائے اصلاحات کے لیے بر سر اقتدار ہیں''۔

انھوں نے شرکاء کو مخاطب ہو کر کہا: ''میرا آپ اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے پیغام یہ ہے کہ اگر آپ اردن میں بہتری کے لیے تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو آیندہ انتخابات اور آیندہ پارلیمان کے ذریعے اس کا موقع ہے۔ اگر آپ کو اضافی اصلاحات کی ضرورت ہے یا انتخابی قانون وضع کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی آیندہ پارلیمان کے تحت اور بیلٹ باکس کے ذریعے کام کیجیے۔ اس سے عوام کی منشاء کا اظہار ہو گا''۔



شاہ اردن نے کہا کہ ''شہریوں کا یہ حق ہے کہ ان کے سوالوں کا حقائق پر مبنی پروگراموں کے ذریعے واضح جواب دیا جائے''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''شرکاء کے حجم سے تبدیلی کے حجم کو متعین کیا جائے گا۔ آیندہ پارلیمان اصلاحات کے لیے ہمارا گیٹ وے ثابت ہوگ ی''۔

شاہ عبداللہ دوم کا کہنا تھا کہ ''اردن کی حکمرانی ایک بھاری ذمے داری ہے۔اس سے انھیں کچھ حاصل وصول نہیں ہوا''۔ ان کی بادشاہت پر اعتراضات وارد کرنے والوں کے لیے یہ ایک سخت بیان ہے۔ واضح رہے کہ اردن کی اخوان المسلمون شاہ عبداللہ سے ملک میں اصلاحات کے لیے بیانات دیتی رہی ہے۔

شاہ عبداللہ کی مجوزہ اصلاحات کے تحت اب وزیر اعظم کو پہلی مرتبہ ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا جائے گا جبکہ اس سے قبل شاہ ہی وزیر اعظم کو مقرر کرتے تھے۔ انھوں نے انتخابات کے ذریعے ملک میں اصلاحات اور تبدیلی کی بات کی ہے لیکن اردن کی طاقتور اسلامی حزب اختلاف نے انتخابات کے ہی بائیکاٹ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام کے تحت بادشاہت کے قدامت پسند حامیوں کو زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے۔ قدامت پرست اصلاحات کے منصوبے کے بارے اپنے شکوک وشبہات کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔