.

العربیہ ٹیم بحرینی سیکیورٹی اہلکاروں کے قاتلوں کے گڑھ میں داخل

پولیس نے پانچ اشتہاری گرفتار کر لئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
خلیجی ریاست بحرین میں سیکیورٹی اہلکاروں پر قاتلانہ حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔ ایک مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والے العکر میں روپوش شدت پسندوں کے خلاف اس پولیس سرچ آپریشن کو العربیہ کیمرہ ٹیم نے بھی کور کیا۔



خیال رہے کہ بحرین میں چند روز پیشتر عکر کے مقام پر عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے پولیس کی گشتی پارٹی پر پٹرول بموں اور آتش گیر مادے سے حملہ کیا، جس میں ایک سیکیورٹی اہلکارجاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سرچ آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے پولیس پر حملوں کے الزام میں عکر میں چھپے آٹھ شدت پسندوں کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ ان اشتہاری ملزموں میں سے پانچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دو محروسین نے پولیس پر حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔



خیال رہے کہ ضلع عکر بحرین میں اہل تشیع کی حکومت مخالف بنیاد پرست تنظیموں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں عسکریت پسندوں کے کئی گروہ سرگرم ہیں۔ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں سے مقامی آبادی بھی سخت پریشان ہے۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں عسکریت پسندوں کی جانب سے علاقہ چھوڑنے اور قتل کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ شدت پسند عکر کی آبادی کو اپنے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک چلانے اور بصورت دیگر علاقہ چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔



عکر کے ایک مقامی شہری نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کی حمایت کی۔ اس کا کہنا تھا کہ پولیس مخصوص اشتہاریوں کےخلاف سرچ آپریشن کر رہی ہے۔ وہ اس کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس آپریشن کے نتیجے میں مقامی آبادی بھی محفوظ ہو گی۔



بہت سے شہریوں نے قدامت پسندوں کے حملوں کے خوف سے آن کیمرہ کسی قسم کے تبصرے سے انکار کر دیا، تاہم پولیس کے آنے سے لوگ خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے چہروں سے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ وہ اپنے بیچ موجود بعض شدت پسند عناصر سے سخت نالاں ہیں۔



العربیہ ٹی وی پر عکر میں تخریب کاروں کی کارروائیوں کے مناظر دکھائے گئے جن میں عسکریت پسندوں نے تخریبی سرگرمیوں میں تعاون نہ کرنے پر اپنے ہم مسلک لوگوں کے مکان، دکانیں اور دیگر املاک نذر آتش کرتے دکھایا گیا۔ سڑک پر پولیس کے فائر پٹرول بموں کےخول جا بجا دکھائی دیے۔