.

امیر قطر کا اسرائیلی محاصرے کا شکار غزہ کا تاریخی دورہ

دوحہ کی سرمایہ کاری 40 کروڑ ڈالرز تک بڑھانے سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی مصر کی سرحد سے اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے زیر نگیں غزہ کی پٹی کے تاریخی دورے پر سرحدی قصبے میں داخل ہو گئے ہیں۔

امیر قطر کے ساتھ بہت بڑا وفد بھی رفح بارڈر کراسنگ کے راستے غزہ گیا ہے۔ مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحدی علاقے میں حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ہنئیہ اور دوسرے عہدے داروں نے قطری وفد کا استقبال کیا۔

وفد میں امیر قطر کی اہلیہ شیخہ معاذہ، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم اور دوسرے وزراء شامل ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد اسرائیلی محاصرے کا شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا اور انسانی امداد بہم پہنچانا ہے۔ وہ غزہ میں حماس کی حکومت کے بعد علاقے کا دورہ کرنے والے پہلے خلیجی حکمران ہیں۔

امیر قطر اپنے مختصر دورے کے موقع پر غزہ کی پٹی کے لیے پچیس کروڑ چالیس ڈالرز مالیت کے سرمایہ کاری کے ایک منصوبے کا افتتاح کرنے والے تھے۔ اس منصوبے کے تحت دسمبر 2008ء اور جنوری 2009ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ بائیس روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کی جائے گی۔

اسماعیل ہنئیہ نے غزہ کی پٹی کے قصبے خان یونس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ''امیر نے قطری سرمایہ کاری کی مالیت کو پچیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز سے چالیس کروڑ ڈالرز تک بڑھانے سے اتفاق کیا ہے''۔

امیر قطر یہ دورہ ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب غزہ کے سرحدی علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ منگل کو سرحدی علاقے میں بم دھماکے میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی ہو گیا۔

ایک روز قبل اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں دو فلسطینی مزاحمت کار شہید اور چار شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ایک اور فلسطینی بھی نامعلوم حالات میں جاں بحق ہو گیا۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائیوں اور فضائی حملوں میں فلسطینیوں کے بہنے والے خون کو رائیگان نہیں جانے دیا جائے گا جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کا بھرپور جواب دے گا۔ اسرائیلی فوج فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں کے جواب میں غزہ کی پٹی پر بمباری کرتی رہتی ہے۔