.

حج میں سیاست چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی سعودی عرب

وزیر داخلہ نے حج انتظامات کا جائزہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعوی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ احمد بن عبدالعزیز نے حج انتطامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم تمام مسلمان ممالک سے آئے حجاج کرام کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن کسی شخص کو فریضہ حج کی ادائی کے دوران گڑ بڑ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"



سعودی وزیر داخلہ اور چیئرمین حج کمیٹی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز نے مکہ مکرمہ کے دورے کے دوران حج انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دنیا بھر میں موجود حجاج کرام کے عزیز و اقارت کو اطمینان دلایا کہ سعودی حکومت حجاج کرام کا تحفظ ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائے گی۔



اس موقع پر وزیر داخلہ کو حج کے دوران ایمرجنسی فورسز، جنرل سیکیورٹی، شہری دفاع، ٹریفک کنٹرول، میڈیکل ٹیموں اور سعودی ہلال احمر نے حجاج کرام کو فراہم کی جانے والی خدمات اور تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی

گئی۔



مکہ معظمہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حج کی غرض سے دیار مقدس میں آیا ہر شخص ہمارے لیے یکساں طور پر قابل احترام ہے۔ ہم کسی شخص کے ساتھ ملک، قوم، طبقے اور رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتیں گے لیکن کسی شخص کو حج کے دوران سیاست چمکانے اور فریضہ حج کی ادائی پر اثر انداز ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔

شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ دنیا اس وقت بڑی تبدیلیوں سے گذر رہی ہے۔ ان تبدیلیوں کے حج جیسے عالمی اجتماع پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں لیکن ہم حجاج کرام سے اطاعت و خوف خداوندی کی توقع رکھتے ہیں۔



انہوں نے کہا کہ حج کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتطامات کیے جائیں گے اور کسی شخص کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے حج کو سیاسی رنگ دینے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر کسی نے فساد پھیلانے کی کوشش کی تو اسے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔



خیال رہے کہ سعودی عرب میں دنیا بھر سے عازمین حج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک کم وبیش تین ملین افراد مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں۔ سعودی عرب کے باہر سے انڈونیشیا واحد مسلمان ملک ہے جہاں سے دو لاکھ عازمین حج سعودی عرب پہنچے ہیں۔