.

لبنان میں کشیدہ امن، FBI ٹیم جنرل وسام قتل کی تحقیق کرے گی

فرقہ وارانہ کشیدگی کا خطرہ موجود ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان میں اعلیٰ سکیورٹی اہلکار کی گزشتہ روز بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد فرقہ وارنہ کشیدگی میں اچانک ہونے والے اضافے میں کمی آ رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بیروت کے کاروباری مرکز اور شمالی شہر طرابلس میں صدر نجیب میقاتی کے گھر کے باہر احتجاجی کیمپ تاحال قائم ہیں جن میں دھرنا دینے والے مظاہرین میقاتی کے استفعے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سعد حریری کی قیادت میں 14 مارچ الائنس صدر میقاتی کو بریگیڈیئر جنرل وسام عدنان الحسن جنرل کے قتل کا بلواسطہ ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔

ادھرامریکا سے 'ایف بی آئی' کی ٹیم وسام الحسن کے قتل کی تحقیقات میں فنی مدد فراہم کرنے بیروت پہنچنے والی ہے۔ داخلی سلامتی کے ادارے کے نگران بریگیڈئر جنرل اشرف ریفی نے بتایا تھا کہ امریکا کی تحقیقاتی ٹیم دو تین دن میں لبنان آئے گی تاکہ بم دھماکے کے ثبوت جمع کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ لبنانی صدر نجیب میقاتی اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے درمیان ہونے والی گفتگو میں امریکا سے فنی معاونت لینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔



لبنان میں کشیدگی کی تازہ لہر جمعہ سے شروع ہے جب داخلی سلامتی کے انٹلیجنس ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل وسام عدنان الحسن ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی اثنا میں فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سول حکومت کی اتھارٹی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ امن و سلامتی کو بحال رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ لبنان کی شیعہ اور سنی سیاسی حلقے شام کے اندرونی خلفشار کے تناظر میں لبنان میں بڑھتی کشیدگی اور تناؤ پر انتہائی مظطرب دکھائی دیتے ہیں۔

لبنان کی شیعہ آبادی ہمسایہ ملک شام میں پیدا شدہ حکومت مخالف مسلح و خونی تحریک میں اقلیتی شیعہ علوی آبادی سے تعلق رکھنے والے صدر بشار الاسد کی حمایت کر رہی ہے اور سنی آبادی شام کی اکثریتی مگر اقتدار سے محروم سنی آبادی کی حمایت میں اپنی آواز کے سلسلے کو بلند کیے ہوئے ہے۔ امن و سلامتی کو یقنی بنانے کے لیے سرکاری فوج کے دستے بیروت کے سنی علاقوں میں متعین کر دیے گئے ہیں۔