.

مصر دستور ساز اسمبلی کا کیس عدالت عظمیٰ کے حوالے

مجوزہ دستور پر بحث ومباحثہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی ایک انتظامی عدالت نے ملک کے نئے دستور کی تیاری کے لیے قائم کی گئی اسمبلی (کونسل) کی تحلیل سے متعلق کیس کو سپریم آئینی عدالت کو بھیج دیا ہے۔

انتظامی عدالت کے جج نازح طناجو نے منگل کو اس فیصلے کا اعلان کیا ہے۔اب آئینی عدالت عظمیٰ سو ارکان پر مشتمل متنازعہ دستور ساز اسمبلی کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

اس اسمبلی کی ہئیت ترکیبی اور اس کے ارکان کے انتخاب کے طریق کار کو انتظامی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ گذشتہ سال سابق صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد سے ملک کا نیا دستور مرتب کرنے کے لیے دو مرتبہ آئینی اسمبلی تشکیل دی جا چکی ہے۔

اس سے پہلے اپریل میں تشکیل کی گَئی اسمبلی کو معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندہ نہ ہونے کی وجہ سے تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اس میں اسلام پسندوں کو بالادستی حاصل تھی اور اس وجہ سے بھی مصر کے لبرل طبقات نے اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مصر کے سابق چیف جسٹس احمد مدحت المراغی نے حال ہی میں فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''آئین کو ضائع ہونے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اس میں قانونی ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ (دستور ساز اسمبلی میں) اسلام پسندوں کی بالادستی تھی لیکن آئین کو قومی اتفاق رائے کا معاملہ ہونا چاہیے''۔

اس پینل نے اسی ماہ کے آغاز میں تیارکردہ نئے آئین کا مسودہ جاری کیا تھا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کو بنیادی آزادیوں کے تحفظ کا حامل نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ واضح رہے کہ عدلیہ کے اختیارات اور فوج کے کردار سے متعلق آئین کی بعض دفعات کو جاری نہیں کیا گیا تھا۔

مجوزہ آئین میں مذہب کے کردار، خواتین کی حیثیت اور عقیدے اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق دفعات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ اس کی دفعہ دو میں صراحت کی گئی ہے کہ ''اسلام ریاست کا دین ہو گا، عربی سرکاری زبان ہو گی، اسلامی شریعہ کے اصول قانون سازی کا بنیادی مآخذ ہوں گے''۔

آئین کی اس دفعہ پر بحث ومباحثہ جاری ہے کیونکہ اسلامی شریعت کے اصولوں کی کئی ایک تشریحات کی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدامت پسند اسلامیوں نے ''شریعت کے اصولوں'' کو ''شریعت کے احکامات'' یا صرف ''شریعت'' سے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قوانین کی تشریح کے وقت کوئی ابہام نہ رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنے طور پر آئین کو بنیادی شہری آزادیوں کا آئینہ دار نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔