.

امارات میں اخوانی اسیران کو پُر تعیش سہولتیں حاصل ہیں انسانی حقوق گروپ

"قیدیوں پر جسمانی تشدد نہیں ہو رہا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
"متحدہ عرب امارات میں حکومت کے خلاف سازش اور اخوان المسلمون سے تعلق کے الزام میں زیر حراست سیاسی قیدیوں سے غیر انسانی سلوک نہیں ہو رہا۔ انہیں آرام دہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں فائیو اسٹار ہوٹلوں سے کھانا منگوا کر دیا جا رہا ہے۔"



یہ بات یو اے ای میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کے سربراہ عبدالغفار حسین نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار اخوان المسلمون کے کارکنوں اور رہ نماؤں کو کسی قسم کے جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا نہیں ہے بلکہ وہ جیل میں بھی پُرتعیش زندگی گذار رہے ہیں۔



عبدالغفار حسین نے یو اے ای کے پراسیکیوٹر جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ ملزمان کو جلد از جلد عدالت میں پیش کریں کیونکہ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلائے بغیر انہیں حراست میں رکھنے سے عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو تشویش لاحق ہے۔ ایسے میں یو اے ای پر بیرونی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔



قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی انسانی حقوق آرگنائزیشن کے سربراہ عبدالغفار حسین نے دبئی میں ایک نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ نیوز کانفرنس میں عرب انسانی حقوق گروپ کے مصر کے مندوب علاء شلبی، کویت کی مہا برجس اور شام کے راسم الاتاسی بھی شریک تھے۔



اس موقع پر عبدالغفار حسین نے کہا کہ انسانی حقوق کی بعض بین الاقوامی تنظیمیں یو اے ای میں زیر حراست اخوانی کارکنوں کے بارے میں تشکیک پر مبنی رپورٹس دی جاری کر رہی ہیں، جن کا زمینی حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ خاص طور پر بین الاقومی گروپوں کی طرف سے محروسین کو جسمانی تشدد اور سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی اطلاعات قطعی بے بنیاد ہیں۔



انہوں نے کہا کہ تمام اسیران کو جیلوں میں الگ الگ کمرے الاٹ کیے گئے ہیں جہاں اعلیٰ معیار کے قالین بچھائے گئے ہیں۔ کمرے صاف ستھرے اور ہوادار ہیں اور قیدیوں کو فائیو اسٹار ہوٹلوں سے کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ عبدالغفار حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مختلف جیلوں میں زیرحراست اخوان المسلمون کے کارکنوں سے بات چیت بھی ہے۔ دوران حراست ان کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی۔ کسی قیدی نے سیکیورٹی حکام کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ہی کسی قیدی نے یہ بتایا کہ اسے جسمانی یا ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔



خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران حکومت کےخلاف سازش کے الزامات کے تحت کئی ملکی اور غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ محروسین پر الزام ہے کہ ان کا تعلق انقلابی مذہبی جماعت اخوان المسلمون سے ہے اور وہ ملک میں افراتفری پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انسانی حقوق کی بعض عالمی تنظیموں نے دبئی جیلوں میں قید اخوانی کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی شکایات کی تھیں۔