.

شامی فوج پر پلے اسٹیشن کنٹرولرز کے ذریعے مارٹروں کے حملے

غیر ملکی امداد نہ ملنے پر باغیوں کو اسلحہ کی کمی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں جدید اسلحے سے لیس سرکاری فوج سے برسرپیکار باغی جنگجوؤں کو گولہ بارود اور طیارہ شکن اسلحے کی کمی کا سامنا ہے اور باغی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے گھریلو ساختہ ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔

ڈیلی میل میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گھریلو ساختہ ہتھیاروں میں مختلف قسم کا گولہ بارود، دستی بم اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جا سکنے والے راکٹ لانچر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مارٹر گولے چلانے کے لیے پہلے اسٹیشن کنٹرولر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج کے ایک سابق سائنسی محقق ابوالفضل کے ساتھ دوسرے ٹیکنیشن مل کر باغیوں کے لیے روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔ وہ سابق صدر حافظ الاسد کے دور حکومت میں شامی فوج میں انجنئیر رہے تھے۔ وہ قریباً بیس ماہ قبل صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک شروع ہونے کے بعد باغیوں کے ساتھ مل گئے تھے اور اب ان کے اسلحہ ماہر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''میں نے صرف راکٹ یا ہتھیار بنانے کا فیصلہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ میں نے اس ظالم اور ناانصاف حکمران کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا جو اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہا ہے، جس نے ہمارے بچوں کو قتل کر دیا تھا اور عورتوں کو بے گھر کر کے در بدر کر دیا تھا''۔

ان کا کہنا تھا کہ باغیوں نے غیر ملکی امداد نہ ملنے کے بعد از خود ہتھیار تیار کرنے شروع کر دیے ہیں۔ گھریلو ساختہ ہتھیار تو مؤثر نہیں ہیں اور بعض اوقات ان کا نشانہ بھی خطا جاتا ہے۔ ان ہتھیاروں کو وسطی شہر حمص میں استعمال کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے شمالی شہر حلب میں باغی جنگجوؤں کو کار بیٹری کی مدد سے مارٹر کو ان لوڈ کرتے دیکھا ہے اور وہ اس کو سونی پلےاسٹیشن کنٹرولر کے ذریعے چلا رہے تھے۔

باغی جنگجوؤں نے شامی فورسز سے جو علاقے آزاد کرائے ہیں، وہاں جرائم اور ڈکیتی کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورت حال میں باغیوں نے جرائم پیشہ افراد سے قید خانوں کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور ان قیدیوں کے لیے جیلیں کم پڑ گئی ہیں۔ اس لیے ہوسٹلوں کو بھی حراستی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔