.

عراقی وزیر اعظم کے خلاف سابق گورنرِ بصرہ کے قتل کا مقدمہ درج

"الوائلی کو سیاسی مقاصد کے لیے نوری المالکی نے قتل کرایا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے سابق مقتول گورنر محمد مصباح الوائلی کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ الوائلی کے قتل میں وزیر اعظم نوری المالکی ملوث ہیں۔ ورثاء نے وائلی کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتول الوائلی کی جماعت 'عراق فضیلت پارٹی' کے کے دو رہ نماؤں اور مقتول کے بھائیوں اسعد الوائلی اور فراس الوائلی نے بصرہ میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ان کے پاس مصباح الوائلی کے قتل میں وزیر اعظم نوری المالکی کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔



مقتول کے بھائیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے قتل کی تحقیقات کے بارے میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس میں وزیر اعظم نوری المالکی کو فریق بنایا گیا ہے کیونکہ ہمارے پاس قتل کی اس گھناؤنی واردات میں وزیر اعظم کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ فراس الوائلی نے کہا کہ وزیر اعظم المالکی اہل تشیع کی فضیلت پارٹی میں آئندہ انتخابات سے قبل اپنا حمایت یافتہ ایک سیاسی بلاک تشکیل دینا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمارے بھائی کو اس راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہوئے انہیں قتل کرا دیا۔



یاد رہے کہ سابق گورنر بصرہ مصباح الیث الوائلی الکنانی کو 27 ستمبر کو نامعلوم مسلح نقاب پوش فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ مقتول کے سر اور سینے میں سات گولیاں لگیں۔ وہ اسپتال پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد دم توڑ گئے تھے۔ مقتول کے ورثاء کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم المالکی نے مصباح الوائلی سے ان کا سیکیورٹی سکواڈ بھی واپس لے لیا تھا تاکہ دہشت گردوں کو ان پر حملے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ مصباح الوائلی سابق عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سنہ 2005ء سے 2009ء تک بصرہ کے گورنر رہے۔

نوری المالکی کے خلاف ثبوت

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے ورثاء کا کہنا تھا کہ وہ ایک مظلوم خاندان کی حیثیت سے عدالت میں آئے ہیں۔ ان کے ساتھ کسی اور نے نہیں بلکہ خود وزیر اعظم نوری المالکی نے ظلم کیا ہے۔ ہم سب کے سامنے اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بھائی کا قاتل نوری المالکی ہے۔ قتل کی اس واردات میں ان کے ملوث ہونے کے دسیوں ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ وزیر اعظم کے علاوہ فضیلت پارٹی کے المالکی نواز لیڈر بھی ملوث ہیں جو پارٹی میں ایک نیا گروپ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ الوائلی کے قتل کے لیے رقوم پارٹی کے مالکی نواز لیڈروں عبداللہ عویز الجبوری اور عصام کریم اسدی نے فراہم کی تھیں۔

بعد ازاں العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے بھائی اسعد الوائلی نے کہا کہ سابق گورنر بصرہ نے اپنے قتل سے فقط تین گھنٹے قبل وصیت کی تھی کہ وزیر اعظم اپنے لوگوں بالخصوص عبداللہ العویزی الجبوری اور عصام الاسدی کے ذریعے میرے قتل کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عصام الاسدی اور عبداللہ العویزی کو ایران اور بعض دوسری طاقتوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔ عراقی انٹیلی جنس اداروں نے بھی اپنی تحقیقات میں یہ بات ثابت کی ہے کہ الوائلی کے قتل میں اندرونی اور بیرونی دونوں ہاتھ ملوث ہیں۔

شفاف عدالتی تحقیقات کی یقین دہانی

ادھر عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل نے یقین دلایا ہے کہ وہ سابق گورنر بصرہ کے اندھے قتل کی شفاف تحقیقات کرے گی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ الوائلی کے قتل میں وزیر اعظم سمیت جو لوگ بھی ملوث ہوئے ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہو گی۔

جوڈیشل کونسل کے ترجمان عبدالستار البیرقدار نے بغداد میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ نوری المالکی اور عام عراقی شہری میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر نوری المالکی کے خلاف کوئی دعویٰ دائر کیا گیا تو عدالت ان سے ایک عام شہری کی طرح پوچھ گچھ کرے گی۔

سابق گورنر بصرہ کے قتل کے سلسلے میں عدالت میں دائر مقدمہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر البیرقدار کا کہنا تھا کہ فی الحال مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ تاہم اگر یہ معاملہ عدالت تک پہنچا تو اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور عدالت تمام ملزمان سے بلا امتیاز کارروائی کرے گی۔