.

شام عید الاضحیٰ پر چار دن کے لیے اعلانِ جنگ بندی

باغیوں میں لڑائی معطل کرنے کے معاملہ پر اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کی فوجی کمان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جمعہ کی صبح سے سوموار تک چار روز کے لیے فوجی کارروائیوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ باغی جنگجوؤں میں جنگ بندی کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

شام کی فوجی کمان نے جمعرات کو ایک اجلاس میں جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی جانب سے کسی بھی گڑ بڑ کا جواب دے گی۔ فوجی کمان کے بیان کے مطابق ''اگر دہشت گرد گروپوں نے اس دوران خود کو مسلح کر کے طاقتور بننے کی کوشش کی اور انھیں پڑوسی ممالک کی جانب سے کمک بھیجی گئی تو وہ اس کے ردعمل میں کارروائی کرے گی''۔

دوسری جانب شامی جنگجوؤں اور باغی فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ باغی عید الاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کی پاسداری کریں گے۔ اس کمانڈر نے شامی حکومت سے جمعہ تک تمام گرفتار افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن باغیوں کی ایک تنظیم انصار الاسلام کے ترجمان ابو معاذ کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجو اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی الاخضر الابراہیمی کی ثالثی کے نتیجے میں اعلان کردہ جنگ بندی کے پابند نہیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جنگجوؤں کو حکومت کی نیت پر شک ہے کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی پر عمل درآمد کی صورت میں پہلے سے عدم رسائی والے علاقوں میں ہزاروں شامی خاندانوں کو ہنگامی امداد بہم پہنچانے کو تیار ہے۔ بیان کے مطابق ادارے کے پاس خانہ جنگی سے متاثرہ تیرہ ہزار خاندانوں میں تقسیم کرنے کے لیے قریباً ساڑھے پانچ سو ٹن وزنی ضروری امدادی اشیاء موجود ہیں۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی الاخضر الابراہیمی نے گذشتہ روز اطلاع دی تھی کہ شام نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔ حکومت مخالف شامی قومی کونسل کے سربراہ عبدالباسط سیدا نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ باغی جنگجو عید کے دنوں میں جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن اگر ان پر حملہ کیا گیا تو وہ بھی اس کا جواب دیں گے۔

انھوں نے بھی فائر بندی کے حوالے سے شامی حکومت کے ارادوں کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ''الاخضر الابراہیمی کا منصوبہ مبہم ہے۔ انھوں نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے کوئی میکانزم وضع نہیں کیا اور وہ ہر دو فریقوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے طور پر جنگ بندی کر سکتے ہیں''۔