.

مصری ثالثی میں حماس ۔ اسرائیل فائر بندی کا نیا سمجھوتہ

غزہ پر اسرائیلی حملے اور مزاحمت کاروں کے ردعمل بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ کی پٹی پر گزشتہ ایک ہفتے سے اسرائیلی فوج کی بمباری اور مزاحمت کاروں کے جوابی راکٹ حملوں کے بعد اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور اسرائیل فائر بندی کے ایک سمجھوتے پر متفق ہو گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فریقین نے مصر کی ثالثی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب فائر بندی کے معاہدے کا اعلان کیا۔



خیال ہے کہ فلسطینی شہر غزہ ماضی میں اسرائیلی فوج کے بری اور فضائی حملوں کا مسلسل نشانہ بنتا رہا ہے۔ صہیونی جارحیت کے ردعمل میں فلسطینی مزاحمت کار غزہ کے آس پاس کے علاقوں میں اسرائیلی تنصیبات پر راکٹ حملے کرتے ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے سے فریقین کے درمیان سخت کشیدگی تھی اور دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔

اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں کئی فلسطینی شہید اور زخمی بھی ہوئے۔ بدھ کو اسرائیلی فوج کے ایک لڑاکا طیارے نے غزہ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور چا زخمی ہو ئے جبکہ منگل کے روز حملوں میں زخمی تین شہریوں میں سے ایک شدید زخمی بھی چل بسا۔ بدھ کے روز صہیونی فوج کی بمباری میں حماس کے ایک کارکن کی شہادت کے بعد مزاحمت کاروں نے اسرائیلی تنصیبات پر کئی راکٹ حملے کیے۔



قبل ازیں منگل کے روز اسرائیلی حملے میں تین فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ صہیونی فوج نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے یہ حملے مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کے جواب میں کیے ہیں۔ بہ قول اسرائیل فلسطینیوں نے یہودی بستیوں اور فوجی تنصیبات پر ایک دن میں کم سے کم 60 راکٹ داغے ہیں۔



ادھر فلسطینی وزارت صحت نے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں اکتوبر کے پہلے تین ہفتوں میں 13 شہری شہید اور 33 زخمی ہوئے ہیں جبکہ بمباری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔