سیز فائر کے چند گھنٹے بعد دمشق سرکاری فوج کی بمباری سے لرز اٹھا

'جنگ بندی میں ہونے والی جارحیت پر خاموش نہیں رہیں گے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

درایں اثناء محاذ جنگ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام کے شمال مغربی شہر حلب میں باغیوں نے تین ماہ کی لڑائی کے بعد کرد اکثریتی الاشرفیہ کالونی کے ایک حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے سرکاری فوج کو مار بھگایا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اشرفیہ کالونی گذشتہ کئی ہفتوں سے سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ کا مرکز رہی۔ دفاعی اعتبار سے فریقین کے لئے یہ ایک اہم مقام ہے۔

مقامی شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے باغیوں نے اشرفیہ کالونی کے آس پاس کے علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط بنانے کے بعد جمعرات کے روز کالونی کے شمالی حصے پر حملہ کر کے سرکاری فوج کو وہاں سے نکال باہر کیا۔ رواں سال جولائی تک اشرفیہ کالونی ایک پرامن علاقہ تھا لیکن گرد و پیش سے متاثرہ شہریوں کی بڑی تعداد کے یہاں پناہ گزین ہونے کے بعد سرکاری فوج نے اس کالونی کو بھی میدان جنگ بنا لیا۔ اشرفیہ کالونی پر سرکاری فوج کی گولہ باری سے درجنوں شہری مارے جا چکے ہیں۔

ایک مقامی شہری کے مطابق انہوں نے سروں پر کلمہ طیبہ والے چرپم لپیٹے اور سیاہ کپڑوں میں ملبوس تقریباً پچاس افراد کو کالونی میں اس وقت داخل ہوتے جب سرکاری فوج وہاں سے پسپا ہو رہی تھی۔ جنگجوؤں نے کالونی کے شمالی حصے پر کنٹرول کے بعد گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اعلان کیا کہ وہ ان کے ساتھ عید منانے آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں