.

شمالی عراق میں عید کے موقع پر بم دھماکے، 10 افراد جاں بحق

ملہوکین میں 3 خواتین اور بچے بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عید الاضحی کے دوسرے دن دارلحکومت کے شمالی علاقوں التاجی اور الموصل میں دو الگ الگ بم دھماکوں میں کم سے کم 10 افراد جان بحق اور 20 دوسرے زخمی ہو گئے۔

سیکیورٹی اور میڈیکل ذرائع نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ کم سے کم پانچ افراد ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں جبکہ 12 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ دھماکے شمالی بغداد سے 25 کلومیٹر دور التاجی کے علاقے مسافر بس میں نصب کردہ بموں سے ہوئے۔

شمالی بغداد کے الکاظمیہ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ ان کے پانچ نعشیں لائی گئیں، جن مین دو خواتین کی تھیں ہسپتال میں بارہ زخمیوں کو لایا گیا جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل تھے۔ ادھر شمالی بغداد سے 350 کلومیٹر دور الموصل شہر میں پولیس اہلکار سیکنڈ لیفٹیننٹ محمد عطا نے بتایا کہ ہفتے کی صبح الموصل کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں کے نتیجے میں پانچ افراد جان بحق اور نو زخمی ہو گئے۔

الموصل جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر رعد الحمدانی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ہاں لائیں جانے والی پانچ نعشوں میں تین خواتین کی تھیں جبکہ نو خواتین، بچے اور مرد بھی علاقے میں لائے گئے۔

جان بحق ہونے والے افراد کا تعلق کردوں کے الشبک گروہ سے تھا۔ ان کی اکثریت شیعہ اکراد پر مشتمل ہے۔ مقامی افراد ان کے دینی نظریات کی وجہ سے انہیں اپنی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں جس کے باعث یہ قبیلہ موصل سے باہر خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔

محمد جمشید عبداللہ الشبک عراقی پارلیمنٹ میں الشبک کے واحد نمائندے ہیں۔ ان کے ووٹرز شمالی عراق کے علاقوں سھل اور نینوی میں بہ کثرت موجودد ہیں۔