.

مجھے قتل کر دیا جائے گا، لبنانی جنرل کا انٹرویو میں انکشاف

'انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ بعض حلقوں کو نہیں بھاتا تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان میں داخلی سلامتی کے انٹلیجنس یونٹ کے سربراہ بریگیدئر جنرل وسام الحسن نے خود پر قاتلانہ حملے سے ایک ہفتے قبل انٹرویو دیتے ہوئے اپنے 'قتل' کا خدشتہ ظاہر کیا تھا۔

'المستقبل' ٹی وی پر چلائے گئے ایک انٹرویو میں جنرل وسام انٹلیجنس کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے دیگر عہدیداروں اور خود اپنی ذات پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کا خدشہ ظاہر کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

جنرل وسام خود گزشتہ ہفتے الاشرافیہ کالونی میں ہونے والے ایک بم حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ویڈیو میں وہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار سے عرمون چھاؤنی میں مخاطب دیکھے جا سکتے ہیں۔ عہدیدار کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے شعبے کو سیاسی وجوہات کی بنا پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ اسے لبنان میں حقیقی امن قائم کرنے کی پاداش میں ٹارگٹ کیا جائے گا۔

جنرل وسام انٹلیجنس شعبے کو نشانہ بنانے کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے ملک میں حقیقی امن قائم کرنے کا جو بیڑا اٹھا لیا ہے وہ یہاں بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا ہے۔

ہمارے ان مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے امن مخالف حلقوں نے ہمیں راہ سے ہٹانے کی ٹھانی ہے۔ وہ مجھے جسمانی طور پر گزند پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہم پر ہونے والے حملے میں جو افراد کام آئے ہیں، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

یاد رہے کہ وسام الحسن نے سن 2005 سے سن 2008 کے درمیان ہونے والے جرائم کی تحقیق میں نمایاں کام کیا۔ ان مجرمانہ سرگرمیوں کا ہدف متعدد سیاسی، میڈیا، سیکیورٹی اور حکومت مخالف شخصیات شکار بنی۔

جنرل وسام کی نگرانی میں کام کرنے والے انفارمیشن ڈیپارٹمںٹ نے لبنان میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے والے اداروں اور القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کو بے نقاب کرنے سے لیکر حال ہی میں شام نواز لبنانی وزیر میشال سماحہ اور شامی سیکیورٹی عہدیدار علی مملوک کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کئے تھے۔

لبنانی صدر میشال سلیمان نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایسے ہی افراد وسام الحسن کے قتل میں ملوث ہیں جبکہ لبنانی اپوزیشن نے وسام کے قتل کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کی ہے۔