.

شام جنگ بندی کے باوجود عید کے تیسرے دن جھڑپیں اور فضائی حملے

دمشق کے نواح میں باغیوں کا تین فوجی عمارتوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کی سرکاری فوج نے چار روزہ اعلان جنگ بندی کے باوجود دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں عید کے تیسرے روز فضائی حملے کیے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان نے ملک کے مختلف علاقوں میں فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں شام کی فوجی کمان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جمعہ کی صبح سے سوموار تک چار روز کے لیے فوجی کارروائیوں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود فوج کے باغیوں پر حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور جمعہ کو عید کے پہلے روز تشدد کے واقعات میں ایک سو پچاس اور ہفتے کو دوسرے روز ایک سو بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق شامی فوج کے جنگی طیاروں نے اتوار کو عید کے تیسرے روز دمشق کے علاقوں زمالقہ، حرستا اور دوسرے نواحی قصبوں پر بمباری کی ہے۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ باغی جنگجوؤں نے دمشق کے نواح میں واقع قصبے الدوما میں شدید لڑائی کے بعد تین فوجی عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ انھوں نے ایک اور چوکی پر حملہ کر کے چار فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے فوجیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد ان کے تین ٹھکانوں پر قبضہ کیا ہے اور ان میں ایک چودہ منزلہ عمارت بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ''جنگجوؤں کی یہ کامیابی اس امر کی غماز ہے کہ اب سرکاری فوج زیادہ دیر تک اپنی تنصیبات اور ٹھکانوں پر قبضہ برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہے۔

ادھر شمالی شہر حلب میں فوجی بیرکوں کے نزدیک باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی۔ شمالی صوبہ ادلب اور ملک کے دوسرے حصوں سے بھی باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں اور چار روزہ جنگ بندی کی صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں دونوں میں سے کسی نے پاسداری نہیں کی۔