.

ایران، خلیج میں امن قائم کر سکتا ہے احمدی نژاد

تہران خطے میں جنگ شروع کرنے میں پہل نہیں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل اور تہران کے درمیان انٹلیجنس اور بیانات کے تناظر میں جاری 'جنگ' کے تناظر میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک خیلجی خطے میں جنگ شروع کرنے میں کبھی پہل نہیں کرے گا۔ یاد رہے کہ تل ابیب، ایران اور لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتا چلا آ رہا ہے۔

محمود احمدی نژاد نے کہا کہ ایرانی کبھی حملہ آور قوم نہیں رہے۔ تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ انہوں نے اپنا دفاع ہمیشہ مضبوط رکھا ہے۔ اگر کسی نے کبھی ایرانی سرزمین کی وحدت پر وار کرنے کی کوشش کی تو ہماری قوم کے ہاتھوں اسے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔

احمدی نژاد نے کہا کہ خلیجی امن ہمیشہ خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے باعث خطرات سے دوچار ہوا ہے۔ جب تک خطہ غیر ملکی فوجیوں سے پاک رہا ہے، اس وقت تک یہاں مکمل امن و سکون رہا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے پاس علاقائی امن قائم کرنے کی مکمل صلاحیت ہے۔ غیر ملکی افواج اپنی تمام تر کوشش کے باوجود یہاں امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پیر کے روز شائع ہونے والے ایرانی اخبارات کے مطابق احمدی نژاد نے ان خیالات کا اظہار امیر البحر کو قومی میڈل عطا کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایران میں مقامی طور پر تیار کئے جانے والے جماران نامی بحری جہاز پر منعقدہ اس تقریب میں نیوی کے اعلی افسران سمیت متعدد سول حکام بھی شریک ہوئے۔ یہ تقریب ایران کے جنوبی شہر بندر عباس کی میں منعقد ہوئی۔

درایں اثنا ایران کے فوجی ذرائع نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ایران جلد ہی اپنی بحری دفاعی قوت میں اضافہ کرنے والا ہے۔ حکومت نواز روزنامہ 'ایران' کا کہنا ہے کہ صدر جمہوریہ نے ایرانی امیر البحر ایڈمرال حبیب اللہ سیاری کو ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے سلسلے میں سرانجام دینے والی خدمات کے اعتراف میں اعلی سرکاری اعزاز عطا کیا ہے۔

اخبار کے مطابق امیر البحر کی ان خدمات کا اعتراف کیا جانا ضروری ہے کہ جو انہوں نے بحری قذاقی کے انسداد کے سلسلے میں سرانجام دی ہیں۔ ایرانی بحریہ کی ڈیٹرنس میں اضافہ ہی دراصل تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی کھلے سمندر میں بحفاظت نقل و حرکت کا ضامن ہے۔ ایران بحریہ کا مسلسل ستر روز تک بحیرہ احمر میں قیام اور اسی بحریہ کی مختلف یونٹوں کا انڈین اوشن اور خلیج عدن میں گشت ایک ایسا کارنامہ ہے کہ جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہی دلیرانہ کارروائیوں کے نتیجے میں البرز میں تیل کے کنوئیں محفوظ ہیں۔