.

باپ کے حج نے بیٹے کے جھوٹ کا پول کھول دیا

یمنی نوجوان گاؤں کا نمبردار بننا چاہتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن کا ایک نوجوان دس برس تک اہل خانہ اور گاؤں والوں پر اپنی جعلی ڈائریکٹرشپ کا رعب ڈالتا رہا لیکن امسال اس کے والد کے حج نے نمبرداری کے شوقین بیٹے کے جھوٹ کا پول کھول دیا۔

کویتی روزنامے 'الرائے' کے مطابق سعودی عرب میں بزرگ حاجیوں کو حرم کعبہ کا طواف کرانے کی خدمت پر مامور یمنی نوجوان اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے سامنے حجاز مقدس میں اپنی نوکری کے ٹھاٹ بتاتے ہوئے دس برس سے انہیں پاگل بناتا رہا۔

امسال اس نوجوان کے والد جب حج کے لئے سعودی عرب آئے تو اسی نوجوان کا دوست موصوف کے والد کو حرم کعبہ کی دوسری منزل پر لے گیا، جہاں ان کا خود ساختہ ڈائریکٹر بیٹا ایک بزرگ اور لاغر حاجی کو وہیل چیئر پر بیٹھا کر طواف کرا رہا تھا۔

دوست کو والد کے ساتھ دیکھ جب خادم الحجاج نے ناک بھوں چڑھائی تو بیٹے کی خجالت کم کرنے کے لئے اس کا والد گویا ہوئے کہ اس میں برا منانے والی کوئی بات نہیں۔ تم جو کام کر رہے ہو، وہ انتہائی بابرکت اور ثواب کا باعث ہے، اسے جاری رکھو۔

حاجی باپ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کا سعودی عرب میں 'ملازم' بیٹا سالانہ تعطیلات پر بڑی شان سے لمبی چوڑی گاڑی میں پھرا کرا تھا۔ وہ لوگوں پر جعلی عکس ڈالتے ہوئے خود کو ریاض میں ایک حج و عمرہ کے ڈائریکٹر کے طور پر متعارف کراتا۔

بہ قول رشتہ دار، موصوف اعلی عہدے کی شیخی بگھار کر گاؤں کا نمبردار بننا چاہتا تھا اور اس مقصد کے لئے اس نے اپنے حق میں دستخطی مہم بھی شروع کرا رکھی تھی۔