.

دبئی کے واٹر فرنٹ مرینا میں گلاب کے پھولوں کی مہکار

گستاخانہ فلم کا منفرد ماحول دوست اور پرامن جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
دبئی کے واٹر فرنٹ مرینا میں چہل قدمی کے لئے آنے والوں نے گزشتہ روز اس وقت ایک ماحول دوست اور خوشگوار تبدیلی محسوس کی کہ جب انہیں سیر کے دوران خوش گفتار رضاکار نوجوان مرد و خواتین نے انہیں گلاب کے پھولوں کا تحفہ پیش کیا۔

یہ خوش کن اقدام دبئی میں مقیم نوجوان مسلمانوں نے سوشل میڈیا کا انتہائی مثبت استعمال کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت ترتیب دیا تھا۔ اس کا مقصد انٹرنیٹ ہی کے ذریعے پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ فلم کی اشاعت کا ایسا پرامن اور مؤثر جواب دینا تھا کہ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔

'دبئی روز ایونٹ' سے پہلے نوجوان مسلمانوں کے ایک گروپ نے ایسے ہی پروگرام ناروے، برطانیہ، جرمنی اور مصر میں منعقد کئے۔ پروگرام کے روح رواں احمد ابوغوش نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرینا میں ہونے والے اس پروگرام میں ان کے رضاکاروں نے سیر کے لئے آنے والوں میں ایک ہزار گلاب کے پھول تقسیم کئے۔ ہر پھول کے ساتھ ایک چھوٹے کارڈ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی احادیث بھی تحریر تھیں جن سے لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے کا درس ملتا تھا۔

ابو غوش نے بتایا کہ ہماری کاوش کو لوگوں نے بہت سراہا۔ اس کے بعد بہت سے دلچسپ مکالموں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ انہوں نے بتایا سیر کے لئے آنے والے چند افراد نے اگرچہ ہمارے رضاکاروں سے پھول تو وصول نہیں کئے تاہم انہوں اپنی شام کی سیر کو اچھے مقصد کی خاطر پھولوں سے رنگین کرنے کے اقدام کو بہت زیادہ پسند کیا۔

مقامی میڈیا پروڈکشن ہاؤس میں خدمات سرانجام دینے والی جہاد ایم ناصریہ، جو کہ اس مہم کے منتظمین میں شامل تھیں، نے بتایا کہ پھول لینے سے انکاری لوگوں کا خیال تھا کہ شاید پھول قیمتاً دیئے جا رہے ہیں۔ بہ قول ناصریہ سیر کے لئے آنے والوں لوگوں کی بڑی تعداد نے ہماری اس کاوش کا جواب خوشگوار سپرٹ اور لاجواب مسکراہٹوں سے دیا۔

'روز ایونٹ' دنیا کے اہم دارلحکومتوں اوسلو، لندن، لیڈز، قاہرہ، میلبرن، پیرس، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی میں ایک ہی دن منا کر نوجوانوں نے دنیا کو آخری پیغمبر کی تعلیمات کی روشنی میں امن و آشتی کا پیغام ایسے منفرد انداز میں دیا کہ اس کی تاثیر دیکھنے، سننے اور پھول وصول کرنے تادیر اپنی زندگیوں میں محسوس کرتے رہیں گے۔