.

شام میں صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے الابراہیمی

دمشق کار بم دھماکے میں 10 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن کے بین الاقوامی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے کہا ہے’شام میں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں‘۔

ان خیالات کا اظہار الاخضر الابراہیمی نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں وزير خارجہ سرگئی لیوروف سے بات چیت کے بعد انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فریقین جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مسٹر الاخضر الابراہیمی ماضی میں یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ 'جنگ بندی کی ناکامی سے وہ ہار نہیں مانیں گے'۔

اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے جمعہ کو شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان عیدالاضحٰی کے موقع پر جنگ بندی کروائی گئی تھی اور اس جنگ بندی میں الاخضر الابراہیمی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

الاحضر الابراہیمی کا کہنا ہے کہ انہوں نے امید کی تھی کہ جنگ بندی کے اس معاہدے سے حکومت اور باغیوں کے درمیان نفرت کو ختم کرنے کے لیے ایک سیاسی عمل کی ابتدا ہو سکے گی۔

ادھر پیر کے روز شامی دارلحکومت دمشق میں جنگ بندی کے چوتھے دن ایک کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ دمشق کے جنوب مشرقی ضلع جرمانا میں پیش آیا ہے۔ ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو ہی حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق عیدالاضحٰی کے موقع پر حکومتی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی علاقوں میں شدید گولہ باری کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق یہ گولہ باری دارالحکومت دمشق، مشرقی شہر دیر الزور اور باغیوں کے زیرِ اثر شمالی صوبے حلب میں کی گئی تھی۔

شام میں فریقین کے مابین ہونے والی اس عارضی جنگ بندی کے پہلے روز ہی ایک سو پچاس افراد کی ہلاکت کی اطلاع تھی۔ حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق شام میں تشدد کے دوران حالیہ دنوں میں روزانہ کم سے کم ایک سو پچاس افراد مارے جا رہے ہیں۔