.

عرب عوام کو حکمرانوں نے اسرائیل مخالف نعروں سے لبھایا

جمال عبدالناصر، قذافی، صدام اور بشار سب ہی گفتار کے غازی ثابت ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوشل میڈیا پر ان دنوں عرب حکمرانوں کے اسرائیل کے خلاف راست اقدام کے بیانات کی گونج ایک مرتبہ پھر سنائی دینے لگی ہے۔ نوجوان بلاگرز اور سوشل میڈیا فالورز کا کہنا ہے کہ 'زبانی جمع خرچ' پر مبنی عرب حکمرانوں کے یہ بیان محض عوام کو 'لبھانے' کا وقتی ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں سوڈانی دارلحکومت خرطوم میں یرموک اسلحہ ساز فیکٹری پر اسرائیلی حملہ دراصل ماضی کے عرب حکمرانوں کے تند و تیز بیانات کی یاد آوری کا باعث بنا۔ بیانات میں اسرائیل کو للکارنے کا سلسلہ صدر جمال عبدالناصر کے فلسطین آزاد کرانے سے متعلق اعلان سے شروع ہو کر عراق کے مصلوب سابق صدر صدام حسین پر ختم ہوتا ہے کہ جو سن 1981ء میں اپنی ایٹمی تنصیاب پر اسرائیلی حملے کے بعد صم بکم کی عملی تفسیر بنے رہے۔

انٹرنیٹ بلاگرز نے موجودہ شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے خود کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دینے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ چھے برس قبل اللاذقیہ میں اپنے محل پر اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی پرواز کو اسی 'دلیر رہنما' نے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا۔ سن 2001ء کو شامی علاقے البیدر میں اسرائیل کے شامی رڈاروں پر حملے اور بعد میں دیر الزور میں 'کبر' ایٹمی تنصیبات پر حملے پر خاموشی بھی بشار الاسد کے کاغذی مزاحمتی کردار کی قلعی کھولنے کے لئے کافی تھی۔

بشار الاسد کے والد بھی اپنی ساری زندگی اسرائیل کو دھمکی آمیز بیانات سے مرعوب کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ اسرائیلی قبضے میں جانے والی گولان کی پہاڑیوں کو آزاد کرائے بغیر ہی دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے کویتی صحافی فؤاد الھاشم نے عرب قیادت کے اسرائیل کو للکارنے سے متعلق دلچسپ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کویت میں سن 1972ء کو لیبی سفارتخانے نے 18 سے 24 سال کے عرب نوجوانوں کی بھرتی کا اعلان کیا، جنہیں فلسطین آزاد کرانے کے لئے متحدہ عرب فورس میں شامل کیا جانا تھا ۔۔۔۔ فلسطین کی آزادی تو خواب ہی رہی تاہم اس کا پرچار کرنے والے کرنل معمر القذافی اپنے ہی عوام کے ہاتھوں مارے گئے۔

جمال عبدالناصر سن 1963ء میں سعودی عرب کو نجران ایئرپورٹ پر کھڑے چھے لڑاکا جہاز پانچ منٹ میں تباہ کرنے کی دھمکی دیتے رہے جبکہ 1967ء میں اسرائیل نے صرف سات منٹ پر محیط کارروائی میں مصر کو پوری فضائیہ لپیٹ کر رکھ دی۔

فؤاد الھاشم نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت جب حافظ الاسد کو اشتعال دلاتی تو ایسے میں شامی میڈیا ان کے مشہور بیان سے تادیر گونجتا رہتا ۔۔۔۔ 'کوئی ہم پر جنگ مسلط نہیں کر سکتا، ہم میدان جنگ اور اس کے وقت کا تعین کریں گے'۔

کویتی دانشور نے مصری رہنماؤں کے اسرائیل مخالف بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اخوان المسلمون خود آزادی فلسطین کے لئے 1948ء میں جنگ کرنے کے اعلانات سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہی ہے لیکن اب اسی جماعت کے حکمران ڈاکٹر محمد مرسی اپنے اسرائیلی ہم منصب کو اپنا عزیز دوست قرار دیکر محبت نامے کا اختتام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2008ء میں غزہ اور اس قبل 2006ء میں جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے کے

وقت ایران صم بکم کی عملی تفیسر بنے رہا۔ عام حالات میں اس کی گلیاں، محلے اور حکومتی ایوانوں میں ہونے والی ساری داخلی اور خارجہ سیاست کا مرکز و محور آزادی فلسطین ہوتی ہے۔

فؤاد الھاشم نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عرب دنیا کیونکر اپنی ساری قوت ایک فرد واحد کے پلڑے میں ڈال دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دانشوروں وہ اسباب کو تلاش کرنا ہوں گے کہ جن کے ہاتھوں مجبور ہو کر عرب عوام حکمرانوں کے 'عشق' میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ فرد واحد کے عشق میں مبتلا ہونے کا عمل امریکا اور یورپی نظام ہائے حکومت کی ڈکشنری میں موجود نہیں۔