.

ایران کے دو جنگی بحری جہاز سوڈان کی بندرگاہ میں لنگر انداز

بحری جہاز دوستی کے پیغام کے طور پر بھجوائے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوڈان کے دارلحکومت خرطوم میں ایک اسلحہ فیکٹری پر اسرائیلی میزائیل حملے کے پانچ دن بعد ایران کے دو لڑاکا بحری جہاز سوڈان کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' کے مطابق 'شاہد نقدی' بحری جہاز جنوبی ایران کی بندرگاہ سے گزشتہ ماہ روانہ ہوا تھا۔ جہاز بحیرہ احمر سے گزرتا ہوا سوڈان کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔

'ایرنا' کے مطابق ایرانی جہازوں کی سوڈان آمد کا علاقے کے ملکوں کو امن اور دوستی کا پیغام پہنچانا ہے۔ نیز ایران کے اس بحری مشن کا مقصد سمندری پانیوں میں دہشت گردی اور قزاقی کے خلاف راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔

ادھر ایران ہی کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے بھی بحیرہ احمر میں سوڈان کی بندرگاہ پر ایرانی جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے دارلحکومت خرطوم کے جنوبی علاقے میں واقع یرموک اسلحہ ساز فیکٹری میں لگنے والی آگ میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سوڈانی حکام کے مطابق فیکٹری میں لگنے والی آگ دراصل چار اسرائیلی جہازوں کی بمباری کا نتیجہ تھی۔

درایں اثنا سوڈان کے مقامی اخبار 'الانتباہ' نے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا کہ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیڑیاس نے سوڈانی محکمہ سراغرسانی کے ڈپٹی ڈائریکٹر صالح الطیب سے فون پر بات کرتے ہوئے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکا کو سوڈانی اسلحہ ساز فیکٹری پر اسرائیلی حملے کا پیشگی علم تھا۔

حکام کے حوالے سے اخبار نے بتایا کہ امریکی واقعے کے بعد سے خرطوم میں اپنے سفارتکاروں کی سلامتی کے بارے میں متفکر ہیں۔