.

دمشق میں شامی فضائیہ کا جنرل قتل سرکاری ٹی وی

شامی باغیوں کی اسد نواز فلسطینی جنگجوؤں سے جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق میں فضائیہ کے ایک جنرل کو قتل کر دیا گیا ہے۔ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ''دہشت گرد گروپوں''پر ان کے قتل کا الزام عاید کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی نے منگل کو اپنے نشریے میں کہا ہے کہ ''ملک کی قومی شخصیات اور سائنسدانوں کو ہدف بنانے کی مہم کے حصے کے طور پر مسلح دہشت گرد گروپوں نے فضائیہ کے جنرل عبداللہ محمود الخالدی کو دمشق کے علاقے رکن الدین میں قتل کردیا ہے''۔ سرکاری ٹی وی نے ان کے قتل کے واقعہ سے متعلق مزید کوئی تفصیل نہیں دی۔

درایں اثناء شام میں عارضی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد مختلف شہروں میں باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ سرکاری فوج نے جنگی طیاروں سے، دمشق، شمالی صوبوں ادلب اور حلب میں بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں پینتیش افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق دمشق کے جنوب میں واقع علاقے حجرالاسود میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان سوموار اور منگل کی درمیانی شب لڑائی شروع ہوئی تھی جو فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک تک پھیل گئی۔ اس لڑائی میں فلسطینی جنگجوؤں نے صدر بشار الاسد کی وفادار فوج کا ساتھ دیا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا کہ ''حجر الاسود میں رات باغیوں اور فوج کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی اور وہ اس کے نواح میں واقع یرموک فلسطینی کیمپ تک پھیل گئی''۔اس دوران فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہےاور فوری طور پر ہلاکتوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

شامی جنرل انقلاب کونسل نے بھی جیش الحر اور پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین کی جنرل کمان (پی ایف ایل پی) کے جنگجوؤں کے درمیان یرموک کیمپ میں لڑائی کی اطلاع دی ہے۔پی ایف ایل پی کے ایک ترجمان نے الزام عاید کیا ہے کہ بعض شامی جنگجوکیمپ میں گھس آئے تھے اور انھوں نے فلسطینیوں کو بھی لڑائی میں کھینچنے کی کوشش کی ہے۔اس کیمپ میں اس وقت ایک لاکھ اڑتالیس ہزار پانچ سو سے زیادہ فلسطینی رہ رہے ہیں۔

شام میں تشدد کے تازہ واقعات چارروزہ ناکام جنگ بندی کے اختتام پر پیش آئے ہیں۔گذشتہ چار روز کے دوران سرکاری فوج کی گولہ باری اور اس کی باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں دوسو پینتیس شہریوں سمیت پانچ سو ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں شام کی فوجی کمان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پرجمعہ کی صبح سے سوموار تک چار روز کے لیے فوجی کارروائیوں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود فوج کے باغیوں پر حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا تھا اور جمعہ کو عید کے پہلے روز تشدد کے واقعات میں ایک سو پچاس، ہفتے کو دوسرے روز ایک سو چالیس افراد اور اتوار اور سوموار کو دوسو ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔