.

شریعت مخالف دستور کی تائید کرنے والے جہنمی ہیں سلفی رہ نما

مطالبے پر زور کے لئے جمعہ کو تحریر اسکوائر میں احتجاج کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں سلفی مسلک کے پیروکار ایک سیاسی رہنما کا کہنا ہے کہ ملک میں شریعت کے نفاذ کی راہ میں مزاحم دستور کے حق میں ووٹ دینے والے مصری 'جہنم' میں جائیں گے۔

الاصالۃ سیاسی جماعت کے بانی عدل عفیفی نے اپنے فیس بک اسٹیٹس میں لکھا ہے کہ "اللہ کے مددگار بنو، دستور کے مسودے کو مسترد کر دو۔" ان کا کہنا تھا کہ دستوری ڈرافٹ کی حمایت کرنے والے 'دائرہ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔" ایسا کرنے والے گنہگار ہیں، جس پر وہ یقیناً جہنم میں جائیں گے۔

مصری ویب پورٹل masrawy.com نے عفیفی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ 'اللہ کے حکم کی خلاف ورزی پر محمول دستور کی تائید کرنا واضح گناہ ہے'

دستوری مسودے میں 1971ء کے دستور کے آرٹیکل 2 کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھا جا رہا ہے۔ اس ارٹیکل کے بموجب 'اسلام ریاست کا مذہب ہو گا، عربی سرکاری زبان جبکہ اسلامی شریعت قانون سازی کا بڑا ماخذ ہو گا۔'

سلفی اور راسخ العقیدہ اسلامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ دستور میں 'اسلامی شریعت کے اصولوں' کی تعبیر کو 'رولنگ آف شریعہ' سے تبدیل کیا جائے۔

مصر میں سلفی مذہب کے پیروکار جمعہ کے روز 'شریعت کی حمایت' میں تحریر چوک میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے جس میں وہ اپنے اس مطالبے کا اعادہ کریں گے کہ ملک کا ایسا دستور منظور کیا جائے کہ جس سے 'اللہ کے قانون کی خلاف ورزی کا پہلو نہ نکلتا ہو'۔ اخوان المسلمون اس احتجاج میں شریک نہیں ہو گی۔