.

عراق شام جانے والے ایرانی طیاروں کی تلاشی نہ لےایرانی ترجمان

عراقی حکومت امریکا کے دباؤ کا مقابلہ کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے دباؤ پراس کے شام جانے والے طیاروں کو اتار کر ان کی تلاشی نہ لے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمن پرست نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ''عراقی حکومت کو طیاروں کی تلاشی کے لیے (امریکا کے ) دباؤ کا مقابلہ کرنا چاہیے اورمستقبل میں اس طرح کے واقعہ کے اعادہ کی اجازت نہیں دینی چاہیے''۔

عراقی حکام نے 28اکتوبر کو شام جانے والے ایران کے ایک مال بردار طیارے کو معائنے کی غرض سے زبردستی اتار لیا تھا اورمحکمہ شہری ہوابازی کے انسپکٹروں نے طیارے کی مکمل تلاشی اور ہتھیاروں کی عدم موجودگی کا یقین کرلینے کے بعد اس کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔

عراقی ماہرین کو اس طیارے سے کوئی ممنوعہ شے نہیں ملی تھی بلکہ اس میں طبی سامان اور کھانے کی اشیاء شام لے جائی جارہی تھیں۔ اس ماہ میں یہ دوسرا موقع تھا کہ شام جانے والے ایرانی طیارے کو عراق میں اتارا گیا تھا۔اس سے پہلے عراقی حکام نے دو اکتوبر کو ایران کا ایک مال بردار طیارہ معائنے کی غرض سے اتار لیا تھا۔اس طیارے سے بھی کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوئے تھے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ ''ان دونوں کیسوں میں عراق نے ہمارے طیاروں کا معائنہ کیا ہے اور اس سے ان کے دعوے جھوٹ ثابت ہوگئے ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ ''ایران کے خلاف اہل مغرب کے الزامات کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ شام میں عدم استحکام ان (ممالک) کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کو ہتھیاروں کی فراہمی اور حمایت کی وجہ سے نہیں ہے''۔

گذشتہ ماہ عراق نے شمالی کوریا کے ایک طیارے کو اس خفیہ اطلاع کے بعد اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا کہ اس میں مبینہ طور پر شام کے لیے ہتھیار بھیجے گئے تھے۔

شام جانے والے مسافر یا مال بردار طیاروں کو اتارنے کا بڑا مقصد امریکا کی اس تشویش کو دور کرنا تھا کہ عراق شامی صدر بشارالاسد کی فوج کو ایران کے فوجی سازوسامان کی فراہمی کے لیے ایک محفوظ روٹ بن چکا ہے۔امریکا ماضی میں عراق کی فضائی حدود سے گذر کر شام جانے والے طیاروں کو اتارنے اور ان کے معائنے کے مطالبات کر چکا ہے۔

لیکن عراق کا کہنا ہے کہ وہ انھی طیاروں کو روکے اور ان کی تلاشی لے گا جب اسے ان میں لدے سامان کے بارے میں کچھ شک ہوگا۔عراقی حکام ماضی میں متعدد مرتبہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ اپنی فضائی حدود کو شامی فوج یا باغی جنگجوؤں کو اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔