.

خانہ جنگی کا شکار شام میںخونی غسل جاری رہے گاروس

مغرب صدر بشارالاسد کی رخصتی پر مُصر رہا تو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ اگر مغرب کی جانب سے صدر بشارالاسد کی رخصتی پر اصرار جاری رہا تو شام میں ''خونی غسل'' بھی جاری رہے گا۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب لوراں فابئیس کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔اس موقع پر فرانسیسی وزیرخارجہ نے اعتراف کیا کہ روس اور فرانس بشارالاسد کے شام کی مستقبل کی عبوری حکومت میں کسی کردار کے حوالے سے اپنے اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''بشارالاسد کی شام کی مستقبل کی عبوری حکومت میں موجودگی کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں''۔واضح رہے کہ روس اور چین شامی صدرکی رخصتی کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شام میں سیاسی انتقال اقتدار کا عمل وہاں کے عوام کی مرضی سے روبہ عمل ہونا چاہیے اوراس کو باہر کی قوتوں کی جانب سے مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

نو فلائی زون

قبل ازیں ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے شام کی صورت حال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں نوفلائی زون مسلط کرنے یا خانہ جنگی کے دوران جانیں بچا کر راہ فراد اختیار کرنے والے شامی شہریوں کے لیے محفوظ علاقوں کے قیام سے متعلق کوئی فیصلہ کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کاکام ہے۔

ترک وزیراعظم نے جرمن چانسلر اینجیلا مرکل سے برلن میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صدام حسین کے عراق میں نوفلائی زون کو مسلط کرنے سے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔

انھوں نے شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر خونریز جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے جرمنی سے شامی بحران کے حل اور مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مدد دینے کی اپیل کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی اپنے طور پر جوق درجوق آنے والے مہاجرین کے قافلوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے لیے ہمیں جرمنی کی مدد کی ضرورت ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم عالمی امن کی تلاش میں ہیں تو یہ ایک تباہی ہے اور ہمیں اس کو روکنا ہوگا۔جرمن چانسلر نے اس موقع پر شام کی صورت حال کو ترکی کے لیے ایک بوجھ قرار دیا اور ہزاروں شامی مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انسانی امداد کی پیش کش کی۔انھوں نے کہا کہ نیٹو اتحادی ہونے کے ناتے ہم ترکی کی سکیورٹی کی ضروریات کو سمجھتے ہیں۔