خانہ جنگی کا شکار شام میںخونی غسل جاری رہے گاروس

مغرب صدر بشارالاسد کی رخصتی پر مُصر رہا تو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قبل ازیں ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے شام کی صورت حال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں نوفلائی زون مسلط کرنے یا خانہ جنگی کے دوران جانیں بچا کر راہ فراد اختیار کرنے والے شامی شہریوں کے لیے محفوظ علاقوں کے قیام سے متعلق کوئی فیصلہ کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کاکام ہے۔

ترک وزیراعظم نے جرمن چانسلر اینجیلا مرکل سے برلن میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صدام حسین کے عراق میں نوفلائی زون کو مسلط کرنے سے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔

انھوں نے شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر خونریز جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے جرمنی سے شامی بحران کے حل اور مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مدد دینے کی اپیل کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی اپنے طور پر جوق درجوق آنے والے مہاجرین کے قافلوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے لیے ہمیں جرمنی کی مدد کی ضرورت ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم عالمی امن کی تلاش میں ہیں تو یہ ایک تباہی ہے اور ہمیں اس کو روکنا ہوگا۔جرمن چانسلر نے اس موقع پر شام کی صورت حال کو ترکی کے لیے ایک بوجھ قرار دیا اور ہزاروں شامی مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انسانی امداد کی پیش کش کی۔انھوں نے کہا کہ نیٹو اتحادی ہونے کے ناتے ہم ترکی کی سکیورٹی کی ضروریات کو سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں