.

چین شامی بحران کے حل میں فعال کردار ادا کر سکتا ہے ابراہیمی

شام میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ چین شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔

انھوں نے یہ بات بیجنگ میں چین کے وزیر خارجہ یانگ جیچی سے بدھ کو ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین، شام میں خونریزی روکنے کے لیے موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ مسٹر یانگ نے چین کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ''شامی ایشو کو حل کرنے کا واحد اور درست راستہ سیاسی ڈائیلاگ ہے۔ شام میں سیاسی انتقال اقتدار کا عمل وہاں کے عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے اور اس کو باہر کی قوتوں کی جانب سے مسلط نہیں کیا جانا چاہیے''۔

درایں اثناء شام کی مقامی رابطہ کمیٹیوں کی اطلاع کے مطابق منگل کو تشدد کے واقعات میں سات خواتین اور تیرہ بچوں سمیت ایک سو تریسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں زیادہ تر افراد شمالی صوبہ ادلب اور دمشق میں ہلاک ہوئے تھے۔

شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے حلب میں شامی تیل کمپنی پر قبضہ کر لیا ہے۔ ادھر دمشق کے نواحی علاقے الدوما میں سرکاری فوج نے متعدد فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں بیسیوں عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔