.

اردنامریکی سفارت کارکے قتل میں ملوث ملزم کو معافی سے انکار

شاہ عبداللہ دوم نے چھے جنگجوؤں کو معافی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے جیل میں قید القاعدہ سے وابستہ چھے جنگجوؤں کو خصوصی معافی دے دی ہے لیکن اردنی حکومت نے ان میں شامل سن 2002ء میں ایک امریکی سفارت کار کے قتل میں ملوث ملزم کو معاف اوررہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔

وزیر اطلاعات سامح معایطہ نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا کہ ''وزراء کی کونسل نے بدھ کو شاہ عبداللہ کو سفارش پیش کی تھی کہ وہ محمد عیسیٰ دموس کے نام کو خصوصی معافی پانے والے افراد کی فہرست سے نکال دیں''۔

اردن کے آئین کے تحت خصوصی معافی کے لیے شاہ کے علاوہ حکومت کی منظوری ضروری ہے۔دموس کو یو ایس ایڈ کے ایک اہلکار لارنس فولی کے قتل کے مقدمے میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اس امریکی اہلکار کو عمان میں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

گذشتہ روز عمان میں صدارتی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں حکومت کو ہدایت کی گَئی تھی کہ وہ چھے ملزموں کی رہائی کے لیے ضروری قانونی اقدامات کرے۔ان میں دموس کا نام بھی شامل تھا لیکن بعد اس کا نام خارج کردیا گیا۔تاہم اس بیان میں مزید کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی تھی۔

صدارتی محل کے بیان میں ان قیدیوں کو معاف کرنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی تھی۔وزیراطلاعات معایطہ نے کہا کہ چھے میں سے پانچ ملزموں کو خصوصی معافی نامے کے تحت رہا کردیا جائے گا۔

ان پانچ سلفی جہادیوں کو اردن کے سابق انٹیلی جنس افسروں پر حملوں کی سازش ،عراق اور افغانستان میں غیرملکی فوجوں کے خلاف جہاد کی منصوبہ بندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کے الزامات میں قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔واضح رہے کہ اردن کے سلفی حالیہ ہفتوں کے دوران دارالحکومت عمان میں اپنے عزیزواقارب کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہیں۔