.

عراقمفرور نائب صدر کو ایک اور مقدمے میں سزائے موت کا حکم

وزارت داخلہ کےعہدے دار کو قتل کرنے کی سازش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کی ایک فوجداری عدالت نے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کو وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائےموت کا حکم دیا ہے۔

عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے ترجمان عبدالستار البیرک دار نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''بغداد کی مرکزی فوجداری عدالت نے طارق الہاشمی اور ان کے داماد کو اپنے محافظوں کو وزارت داخلہ کے ایک افسر کو قتل کرنے کے لیے ان کی کار کے ساتھ بم نصب کرنے کی شہ دینے کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے''۔

گذشتہ دوماہ میں طارق الہاشمی کو ان کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران دوسری مرتبہ سزائے موت سنائی گئی ہے۔ان کے وکیل معید عبید العزی کا کہنا ہے کہ انھیں اس مقدمے کی سماعت اور فیصلے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

عراق کے سزایافتہ مفرور نائب صدر شیعہ وزیراعظم نوری المالکی پر ملک کے اہل سنت کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات چلانے کے الزامات عاید کرتے چلے آ رہے ہیں۔انھوں نے چند روز قبل العربیہ ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اس وقت عراقی جیلوں میں قید افراد میں سے نوے فی صد سنی ہیں''۔

انھوں نے نوری المالکی پر الزام عاید کیا کہ انھوں نے عراق کے مستقبل اور استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے اور عراقی عوام کسی بھی وقت ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک طویل عرصے سے جاری ان کی بدعنوانیوں اور جابرانہ پالیسیوں پر زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتے۔اب مایوسی کا شکار لاکھوں عراقی ملک میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہیں''۔



سنی مفرور نائب صدر کا کہنا تھا کہ ''نوری المالکی عراق کے استحکام اور اس کی سکیورٹی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور انھوں نے متعدد مواقع پر ملک کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔یہ عراق کے بہترین مفاد ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ کر الگ ہو جائیں''۔

واضح رہے کہ عراق کی ایک فوجداری عدالت نے دو ماہ قبل مفرور نائب صدر کو ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ان پر اور ان کے محافظوں پر چھے ججوں اور دوسرے سنئیر حکام کے قتل سمیت سنگین نوعیت کے ایک سو پچاس الزامات عاید کیے گئے تھے۔طارق الہاشمی پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔

وہ 9 اپریل 2012ء سے صحت کی وجوہ کی بنا پر ترکی میں مقیم ہیں اور ترکی انھیں ملک بدر کرنے سے انکار کرچکا ہے۔وہ گذشتہ سال دسمبر میں اپنے خلاف مقدمات کے اندراج کے بعد ملک سے چلے گئے تھے۔فرانس میں قائم بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول نے بھی عراق کی درخواست پر طارق الہاشمی کے خلاف دہشت گردی کے حملوں میں معاونت کے الزام میں ریڈ نوٹس جاری کیے تھے۔

طارق الہاشمی نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو فرقہ واریت پر مبنی قراردیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات انھیں سیاسی طور پر ختم کرنے کے لیے عاید کیے گئے تھے۔انھوں نے نوری المالکی کی حکومت پر الزام عاید کیا تھا کہ ان کے محافظوں اور دوسرے ملازمین کو خفیہ جیلوں میں قید کرکے انھیں وہاں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے گَئے تھے جس کے نتیجے میں ان کے دو محافظ ہلاک ہوگئے تھے مگر عراقی حکومت نے ان کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔