.

ایس این سی کا جنگی جرائم میں ملوث باغیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

شام میں تشدد کے واقعات میں 110 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشارالاسد کی حزب مخالف کے سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل (ایس این سی) نے کہا ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث باغی جنگجوؤں کو کٹہرے میں لایا جائے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں مزید ایک سو دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایس این سی کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ ردیف مصطفیٰ نے جمعہ کو ٹیلی فون کے ذریعے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم جیش الحر( آزاد شامی فوج) اور انقلابی تحریک پر زوردیتے ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث کسی بھی شخص کا مواخذہ کیا جائے''۔

ایس این سی نے یہ مطالبہ یوٹیوب پر جمعرات کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے بعد کیا ہے۔اس ویڈیو میں باغی جنگجو دس بارہ فوجیوں کو پہلے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کے بعد انھیں ایک قطار میں کھڑا کرکے خود کار رائفلوں سے گولی مار دی جاتی ہے۔انھیں شمال مغربی قصبے سراقبہ سے باغی جنگجوؤں کے فوجی چیک پوائنٹس پر حملے کے بعد پکڑا گیا تھا۔

ردیف مصطفیٰ نے کہا کہ ''مسلح باغی گروپ شام کی سرکاری فوج کی طرح بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب نہیں ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم باغیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہ سکتے کیونکہ اگر ان کے خلاف بولا نہ گیا توان میں اضافہ ہی ہوگا''۔

انھوں نے کہا کہ جیش الحر اور دوسرے مسلح گروپوں کو انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔انھوں نے شام کی موجودہ صورت حال کو بہت ہی پیچیدہ قرار دیا اور کہا کہ بعض انفرادی کیسوں میں ذاتی بدلے چکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں بہت ہی خطرناک ہیں۔انسانی حقوق کی کسی بھِی خلاف ورزی سے آزادی ،حقوق کے احترام اور وقار سے متعلق انقلاب کے اصولوں کو نقصان پہنچے گا۔

باغی جنگجوؤں کی سرکاری فوجیوں کو سرعام گولیاں مارنے کی ویڈیو منظرعام کے بعد انھیں انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے اور انھوں نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری فوجیوں کو قتل کرنے والے باغی جنگجوؤں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی ہمیشو چیک پوائنٹ پر باغی جنگجوؤں کے حملے کے بعد دس بارہ فوجیوں کو ان کی آنکھیں بند کیے بغیر قتل کرنے کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''باغی اگر خود ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں تو وہ ان کے احترام کا کیسے مطالبہ کرسکتے ہیں''۔

درایں اثناء جمعہ کو شام کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک سو دس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔شامی انقلابی کونسل کی اطلاع کے مطابق شمالی شہر ادلب پر سرکاری فوج کے فضائی حملوں میں ستر افراد مارے گئے ہیں۔چالیس افراد ملک کے دوسرے علاقوں میں سرکاری فوج کی کارروائیوں کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔