.

شامی اپوزیشن کا عمان میں اہم اجلاس، سابق وزیر اعظم ریاض حجاب کی شرکت

عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے قطر اجلاس کی تیاریوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
حکومت مخالف شامی سیاسی جماعتوں نے عید الاضحی کے بعد اپنی بیرون ملک سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم اجلاس گزشتہ روز اردن کے دارالحکومت عمان میں ہوا جس میں سابق شامی وزیر اعظم ریاض حجاب، قومی عبوری کونسل کے رکن احمد العاصی الجربہ اور سیاسی رہ نما ریاض سیف سمیت 15 رہ نماؤں نے شرکت کی۔



اجلاس میں عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے قطر میں ہونے والے اجلاس کی تیاریوں پر غور کیا گیا۔ خیال رہے کہ شامی حزب مخالف نے ملک میں عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے تمام سیاسی دھڑوں پر مشتمل ایک اہم اجلاس قطر میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اجلاس میں مجموعی طور پر 50 اپوزیشن رہ نما شرکت کریں گے۔ ان میں شام سے 14، عبوری کونسل کے 15 ارکان، کرد کونسل کے تین اور دیگر متفرق سیاسی جماعتوں کے 22 رہ نماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں شام کے لئے عبوری سیٹ اپ کے قیام کا اعلان متوقع ہے۔ عمان میں ہونے والے اجلاس میں بھی دوحہ اجتماع کو کامیاب بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔



عمان اجلاس کے بعد 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے شامی اپوزیشن رہ نما کمال البوانی نے کہا کہ "اجلاس میں تمام رہ نماؤں میں اس بات پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے"۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور لیڈر صدر اسد کی حکومت کے خاتمے کی تجویز پر متفق ہیں۔ صدر اسد کو ہٹانے کے جس فارمولے پر وہ عمل کر رہے ہیں اس کے پس پردہ امریکی ڈکٹیشن ہے اور نہ ہی شام کے خلاف کوئی غیر ملکی سازش کار فرما ہے۔



ایک سوال کے جواب میں کمال البوانی نے کہا کہ عبوری حکومت کا ہیڈکواٹرز اردن ہی میں ہو گا البتہ عمان حکومت نے معذرت کی تو کسی دوسرے ملک میں عبوری حکومت کا مرکز قائم کیا جائے گا۔