.

مصر سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے چار سیل ختم کر دیے

بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی سکیورٹی فورسز نے نصر سٹی، قاہرہ جدید اور سیدہ زینب کے علاقوں میں دہشت گردی کے چار سیل ختم کر دیے ہیں۔

مصری میڈیا کی اطلاع کے مطابق دہشت گردی کے یہ سیل آٹھ افراد نے قائم کیے تھے اور وہ بیرون ملک سے امداد حاصل کر رہے تھے۔ ان سے بھاری مقدار میں گولہ بارود کے علاوہ جدید اور خودکار ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

دہشت گردی کے اس نیٹ ورک کی تحقیقات سے سامنے آنے والی تفصیل کے مطابق اس سے وابستہ جنگجوؤں کی جزیرہ نما سیناء سے ماورا بھی جڑیں ہو سکتی ہیں اور ان میں سے بعض کا لیبیا اور تیونس سے تعلق ہو سکتا ہے۔

دہشت گردی کے اس نیٹ ورک سے وابستہ مشتبہ افراد کو پندرہ روز تک زیر حراست رکھنے کے بعد قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے۔

گذشتہ ہفتے مصر کی سکیورٹی فورسز نے نصر سٹی میں جنگجوؤں کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور اس دوران کریم احمد اعصام العزیزی نامی ایک جنگجو مارا گیا تھا۔ اس کے بارے میں پہلے بتایا گیا تھا کہ وہ لیبیا کا شہری تھا لیکن بدھ کو ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ وہ مصری ہی تھا۔ اس جنگجو پر لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر گیارہ ستمبر کو حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا تھا۔ ان میں خودکار رائفلیں، ٹی این ٹی کے دس بیگ، راکٹ گرینیڈ، میزائل لانچر، ٹینک شکن میزائل، دھماکوں میں استعمال ہونے والے فونز، ایک سوننانوے ڈیٹونیٹر، بارود کے نو باکس، آدھا کلو بال بیرنگ اور بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا تحریر مواد شامل ہے۔

ایک جہادی گروپ کے لیڈر عادل عواد شحتو کا کہنا ہے کہ وہ قاہرہ جدید یا نصر شہر میں ان گرفتاریوں سے آگاہ نہیں ہیں۔ انھوں نے ہتھیار اور گولہ بارود رکھنے یا ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی بھی تردید کی ہے۔

گرفتار افراد نے مصر کی قومی سکیورٹی سروس پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ سابق صدر حسنی مبارک کے دور سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ گرفتار کیے گئے تیونسی شہری محمد سعید مرغانی کا کہنا ہے کہ وہ قاہرہ کی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں کام کے لیے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بم بنانے کا ماہر ہونے کے باوجود انھوں نے کبھی غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا۔

ایک اور الزام علیہ سابق افسر طارق ابو الاعظم کا کہنا ہے کہ وہ بھی دہشت گردی کے سیل کا حصہ نہیں تھے بلکہ وہ ایک جہادی لیڈر کے دوست تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ سال قبل ایک فوجداری مقدمے میں ماخوذ کیے جانے کے بعد انھیں سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔