.

شامی اپوزیشن کے لیے 3 ملکوں سے 40 ملین ڈالر مشترکہ امداد

ایس این سی نے آمدن و خرچ کی تفصیل جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کی قومی عبوری کونسل ’’ایس این سی‘‘ نے پہلی مرتبہ اپنی آمدن وخرچ کی مفصل رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کونسل کو اب تک لیبیا، متحدہ عرب امارات اور قطر کی جانب سے چالیس ملین ڈالر کی امداد فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی امدادی رقم کا نصف لیبیا جبکہ بقیہ یو اے ای اور قطر نے مہیا کیا ہے۔ ان چالیس ملین ڈالرز میں سے 30 ملین ڈالرز مختلف شعبوں میں خرچ کیے جا چکے ہیں۔ امداد کا 90 فی صد شامی پناہ گزینوں، متاثرین کی بحالی، انقلابی جنگجوؤں اور لبریشن آرمی کی مدد اور متاثرین کی ریلیف کی سرگرمیوں پر صرف کی گئی ہے۔



فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بیروت سے شامی عبوری کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کونسل نے اپنے قیام اکتوبر 2011ء کے بعد سے اب تک مختلف ممالک سے چالیس ملین چار لاکھ ڈالرز کی امداد وصول کی ہے۔ ان میں سے متحدہ عرب امارات نے پانچ، قطر نے 15 اور لیبیا نے 20.4 ملین ڈالر دیے ہیں۔



بیان میں آمدن کے ساتھ اس کے اخراجات کی بھی تفصیلات درج ہیں۔ کونسل نے مجموعی طور پر حاصل کردہ رقم میں سے اب تک 29.7 ملین ڈالر مختلف شعبوں میں صرف کیے ہیں۔ ان میں سے 89 فی صد رقم شامی پناہ گزینوں کی ریلیف سرگرمیوں اور بقیہ گیارہ فی صد انتظامی اور دیگر شعبوں میں خرچ کیے ہیں۔



آمدن وخرچ اخراجات کی مفصل رپورٹ کے مطابق اندرون ملک شام کی فوجی کونسلوں اور انقلابی گروپوں کی مدد کے لیے 22.5 ملین ڈالر فراہم کیے گئے۔ نقل مکانی کر کے بیرون ملک پناہ گزینوں کے لیے تین اعشاریہ آٹھ ملین، انتظامی سرگرمیوں میں دو ملین ڈالرز اور مواصلاتی شعبے میں ایک اعشاریہ تین ملین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔



رپورٹ کے مطابق عبوری کونسل کے زیر انتظام ریلیف آفس کے لیے 42 فی صد، شام کی لبریشن آرمی کے رابطہ دفتر کے لیے 10 فی صد، دفتر برائے امور پناہ گزین و مہاجرین کے لیے آٹھ فی صد، مقامی رابطہ کمیٹیوں کے لیے دو فی صد کی رقم مختص کی گئی ہے۔