.

3 شامی ٹینکوں کی گولان میں در اندازی، اسرائیل میں ہائی الرٹ

پیش رفت کا تعلق شام کی داخلی صورتحال سے ہے: تل ابیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی فوج نے ہفتے کے روز اپنے تین ٹینک اسرائیل کے ساتھ متنازعہ گولان کی پہاڑیوں میں داخل کر دیئے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شامی ٹینک غیر فوجی علاقے میں داخل ہوتے دیکھے گئے۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو نے سیکیورٹی ادارے کا بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹینکوں کی نقل و حرکت کا شام کے داخلی بحران سے تعلق ہے تاہم اس کے علی الرغم یہ کارروائی دمشق اور تل ابیب کے درمیان لائن آف کنڑول کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ اس لئے ہم اقوام متحدہ سے رجوع کر رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد شمالی ریجن کی کمان نے گولان کی پہاڑیوں میں فورسسز کو رٹ الرٹ کر دیا ہے۔ اس سے قبل شامی علاقے سے فائر کئے جانے والے ہاون راکٹوں سے گولان کی پہاڑیوں میں آگ لگ گئی۔

عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے شام ۔ اسرائیل سرحدی کیمپوں میں خدمات سرانجام دینے والے اسرائیلی افسر کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے اسرائیلی فوجیوں نے گولان کی پہاڑیوں میں غیر فوجی علاقے میں تین شامی ٹینک داخل ہوتے دیکھتے ہی انہیں وارننگ دی، جس کے بعد وہ شامی علاقے کی جانب واپس چلے گئے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی فوجی تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شامی ٹینک حکومت مخالفین کا پیچھا کرتے ہوئے گولان کی پہاڑیوں پر غیر فوجی علاقے میں داخل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے اسرائیلی فوج کے علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا تاکہ شامی علاقے سے اسرائیل میں مہاجرین کے داخلے یا سمگلنگ کو بروقت روکا جا سکے۔

ادھر اسرائیل فوجی ترجمان کے بہ قول تل ابیب نے شام کی سرحدی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کے مبصرین کے پاس احتجاج اور رپورٹ درج کرائی ہے۔ ترجمان کے مطابق سرحدی خلاف ورزی کا یہ واقعہ ہفتے کے روز دفاعی اہمیت کے پہاڑی علاقے گولان میں رونما ہوا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں شامی ٹینک اسرائیلی سرحد میں کتنا اندر داخل ہوئے۔

واضح رہے کہ شام سرکاری طور پر اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے تل ابیب سے حالت جنگ میں ہے۔ گولان کو سنہ 1981 نے اسرائیل میں ضم کر لیا تھا، تاہم بین الاقوامی برادری اسرائیل کے گولان کو ضم کرنے کو قانونی تسلیم نہیں کرتی۔