.

عراقمفرور نائب صدر کو تیسری مرتبہ سزائے موت کا حکم

محافظوں کو اہل تشیع پرکار بم حملے کی شہ دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کی ایک فوجداری عدالت نے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی اور ان کے داماد کو اپنے محافظوں کو اہل تشیع پر کار بم حملے کی شہ دینے کے الزام میں قائم مقدمے میں قصور وار قرار دے کر سزائےموت کا حکم دیا ہے۔

عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے مفرورنائب صدر اور ان کے داماد پر گذشتہ سال دسمبر میں شیعہ زائرین پر کار بم حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ قائم کیا تھا۔عراقی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر بارود سے بھری ایک کار کو پکڑا تھا اور حملے کی اس سازش کو ناکام بنادیا تھا۔

بغداد کی مرکزی فوجداری عدالت نے گذشتہ جمعرات کو طارق الہاشمی اور ان کے داماد کو اپنے محافظوں کو وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر کو قتل کرنے کے لیے ان کی کار کے ساتھ بم نصب کرنے کی شہ دینے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔

گذشتہ دوماہ میں عراق کے نائب صدر کو ان کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران تیسری مرتبہ سزائے موت سنائی گئی ہے۔انھیں دوسری مرتبہ سزائے موت سنائے جانے کے بعد ان کے وکیل معید عبید العزی نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ انھیں اس مقدمے کی سماعت اور فیصلے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

طارق الہاشمی اپنے خلاف عاید کردہ تمام الزامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کرچکے ہیں۔انھوں نے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی پر ملک کے اہل سنت کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات چلانے کے الزامات عاید کیے تھے۔ انھوں نے چند روز قبل العربیہ ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اس وقت عراقی جیلوں میں قید افراد میں سے نوے فی صد سنی ہیں''۔

واضح رہے کہ عراق کی ایک فوجداری عدالت نے دو ماہ قبل مفرور نائب صدر کو ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پہلی مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ان پر اور ان کے محافظوں پر چھے ججوں اور دوسرے سنئیر حکام کے قتل سمیت سنگین نوعیت کے ایک سو پچاس الزامات عاید کیے گئے تھے۔ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔

طارق الہاشمی دسمبر 2011ء میں اپنے خلاف مقدمات قائم ہونے کے بعد عراق سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔وہ 9 اپریل 2012ء سے صحت کی وجوہ کی بنا پر ترکی میں مقیم ہیں اور ترکی انھیں ملک بدر کرنے سے انکار کرچکا ہے۔ انھوں نے نوری المالکی کی حکومت پر الزام عاید کیا تھا کہ ان کے محافظوں اور دوسرے ملازمین کو خفیہ جیلوں میں قید کرکے انھیں وہاں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیانات حاصل کیے گَئے تھے جس کے نتیجے میں ان کے دو محافظ ہلاک ہوگئے تھے لیکن مالکی حکومت نے ان کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔