.

فرانسیسی صدر کا لبنان میں استحکام قائم رکھنے پر زور

فرانسو اولاند کا سیاسی کشیدگی کے جلو میں دورہ بیروت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان اور فرانس کے صدور نے اتوار کے روز دارلحکومت بیروت میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے استحکام کو گزند پہنچانے والی کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔

لبنانی صدر میشال سلیمان اور ان کے فرانسیسی ہم منصب صدر فرانسو اولاندے نے بیروت میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر فرانسو نے لبنانی فوج اور داخلی سلامتی کے اداروں کو مضبوط بنانے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس نے شامی مہاجرین کی لبنان میں آؤ بھگت کے لئے بھی پیرس سے امداد کا یقین دلایا ہے۔

ادھر فرانسیسی صدر اولاندے کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بین الاقوامی فوج میں شامل فرانسیسی فوجیوں کے ذریعے لبنان میں استحکام کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق مقتول وزیر اعظم رفیق حریری اور داخلی سلامتی کے ادارے کے سربراہ بریگیڈئر جنرل وسام الحسن کے قاتل سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔

فرانسیسی صدر اتوار کو علی الصباح لبنان کے مختصر دورے پر بیروت پہنچے، جس کے بعد انہوں نے اپنے لبنانی ہم منصب میشال سلیمان سے ملاقات کی۔

لبنان آمد پر فرانسیسی صدر کا استقبال وزیر مہمانداری سمیر مقبل نے کیا جبکہ باقاعدہ استقبالیہ تقریب دارلحکومت کے قریب بعبدا میں واقع صدارتی محل میں ہوئی۔ فرانسیسی صدر کی لبنان آمد پر سیکیورٹی کے خصوصی انتطامات کئے گئے تھے۔

فرانسیسی صدر کا دورہ بیروت ملک کی سیاست میں حدت کے بعد ہو رہا ہے۔ یہ سیاسی حدت داخلی سلامتی کے سربراہ جنرل وسام کے قتل کے بعد بڑھنا شروع ہوئی کیونکہ دھماکے میں جنرل وسام کی ہلاکت کے بعد اپوزیشن نے وزیر اعظم نجیب میقاتی کی سربراہی میں قائم حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپوزیشن نے حکومت پر لبنان میں کی جانی والی شامی کارروائیوں سے تجاہل عارفانہ برتنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

جنرل وسام کی ہلاکت اور لبنانی حکومت کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ بیروت اور شمالی شہر طرابلس میں ہونے والے ان مظاہروں میں متعدد افراد جھڑپوں میں ہلاک و زخمی بھی ہوئے۔