.

شام صوبہ حماہ میں خودکش کار بم دھماکا، 50 سکیورٹی اہلکار ہلاک

سلفی گروپ النصرۃ محاذ نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے صوبہ حماہ میں خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم پچاس سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ شمالی صوبے ادلب میں سرکاری فوج کے فضائی حملے میں بائیس جنگجو مارے گئے ہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سوموار کو کار میں سوار خودکش بمبار نے صوبہ حماہ کے علاقے ساحل الغاب میں دیہی ترقی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق: ''ایک دہشت گرد نے مرکز میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں دو شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔"

لیکن لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بم دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد پچاس بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مرکز صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز اور حکومت کی حامی ملیشیا کے زیر استعمال تھا اور یہ علاقے میں سرکاری سکیورٹی فورسز کا سب سے بڑا اڈا تھا۔

انھوں نے ایک بیان میں بتایا کہ النصرۃ محاذ سے وابستہ ایک جنگجو اپنی بارود سے بھری کار سمیت اس مرکز میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا اور اس کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد دھماکے ہوئے اور ان میں سے کم سے پچاس سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔

القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ ماضی میں دارالحکومت دمشق اور شام کے دوسرے علاقوں میں متعدد خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کر چکا ہے۔ اس جنگجو گروپ سے سلفی مسلک کے پیروکار وابستہ ہیں۔ یہ دوسرے باغی گروپوں سے الگ تھلگ شامی سکیورٹی فورسز کے خلاف بر سر پیکار ہے اور ان پر فدائی حملے کر رہا ہے۔

درایں اثناء شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کے ایک قصبے حرام میں سرکاری فوج کے فضائی حملے میں بائیس باغی جنگجو مارے گئے ہیں۔ ادلب کے بیشتر علاقوں پر اس وقت باغی جنگجوؤں کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے جبکہ سرکاری فوج اس صوبے سے قدم اکھڑ جانے کے بعد اب باغیوں پر جنگی طیاروں سے فضائی حملے کر رہی ہے۔ اسدی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر بھی بمباری کی ہے۔