.

نیتن یاہو نے 2010ء میں ایران پر حملے کا حکم دیا تھا اسرائیلی ٹی وی

آرمی چیف اور موساد کے سربراہ جنگ مخالف تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کے ایک ٹی وی چینل نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع ایہود باراک نے سال 2010ء میں فوج کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاریوں کا حکم دیا تھا لیکن بعد میں یہ حکم واپس لے لیا گیا تھا۔

نجی ٹیلی ویژن چینل 2 کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل گابی اشکنازی اور انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سربراہ میر داغان کی مخالفت کی وجہ سے عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔

انتہا پسند صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے وزراء کے ایک اجلاس میں فوج کو ''پی پلس'' کی سطح تک جنگی تیاریوں کا حکم دیا تھا۔ اس کوڈ کا مطلب یہ تھا کہ مسلح افواج جنگی کارروائی کے لیے بالکل تیار ہیں۔

لیکن چینل 2 کا کہنا ہے کہ ''میر داغان نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ پندرہ وزراء پر مشتمل سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں کیا جانا چاہیے''۔

جنرل اشکنازی نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ فوج کی الرٹ کی سطح بڑھانے سے بر سر زمین نئی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ وزیردفاع ایہود باراک نے چینل 2 کو بتایا کہ آرمی چیف نے نیتن یاہو سے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج ایران پر حملے کیے لیے تیار ہے اور نہ اس کے پاس آپریشنل ذرائع ہیں۔

ایہود باراک کے بہ قول الرٹ کی سطح بڑھانے کا مطلب صرف جنگ نہیں تھا۔ تاہم صورت خواہ کچھ بھی رہی ہو، صہیونی وزیر اعظم نے ایران پر حملے کے فیصلے کو واپس لے لیا تھا۔

اسرائیلی روزنامے 'ہارٹز' کی رپورٹ کے مطابق جنرل اشکنازی نے فوج کی سربراہی سے سبکدوشی کے بعد اپنے قریبی ساتھیوں کو ایک موقع پر بتایا تھا کہ فوج حملے کے لیے تیار تھی لیکن وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح کا کوئی فیصلہ ایک تزویراتی غلطی ہوتا۔ میر داغان نے موساد کی سربراہی سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بیان میں ایران پر حملے کو ''احمقانہ'' فیصلہ قرار دیا تھا۔

اسرائیل کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ خطے کی واحد غیر علانیہ جوہری طاقت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست کے پاس کم سے کم دو سو جوہری وار ہیڈ موجود ہیں۔ اس نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط بھی نہیں کیے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی لیڈر ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے حملوں کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں اور انھوں نے اپنے پشتی بان امریکا کی حمایت کے بغیر بھی ایران پر یک طرفہ حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔