.

5 محاذوں پر سرگرم شامی انقلابی متحدہ کمان میں یکجا

دارلحکومت کی شاہراہ پاکستان اور انقلاب پر شدید لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بشار الاسد حکومت کے خلاف نبرد آزما انقلابیوں نے پانچ محاذوں پر متحدہ کمان میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حکومت کے خلاف کارروائیوں کو زیادہ بہتر انداز میں روبعمل لایا جا سکے۔

شامی جیش الحر کی سپریم کونسل کے ترجمان لؤی المقداد نے پیر کو علی الصباح ایک بیان میں عندیہ ظاہر کیا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں شام کے پانچ محاذوں کا متحدہ کمان میں لڑنے کا اعلان متوقع ہے۔ شامی جیش الحر کے متعدد بریگیڈ، فارمینشنز اور کمان دار اس متحدہ کمان کے تحت ہوں گے۔

یاد رہے کہ پانچ نئی فارمیشینز میں شامی اپوزیشن کے بہت سے لڑاکا یونٹس اور ان کی کمان شامل ہوں گی۔ اس اعلان کے بعد شام کے طول و عرض میں حکومت سے نبرد آزما متعدد فارمیشنز اور جماعتیں ایک ہی کمان کے تحت اپنی کارروائیاں منظم کر سکیں گی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے المقداد کا کہنا تھا کہ پانچوں فارمیشینز میں شمالی ریجن محاذ، سینڑل محاذ، مشرقی ریجن محاذ، جنوبی ریجن محاذ اور مغربی ریجن محاذ شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد مسلح اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد اور بشار الاسد حکومت گرانے کے لئے فوجی کارروائی تیز کرنا ہے۔ اس کوشش کے ذریعے سرکاری فوج کے خلاف آپریشنز کی زیادہ بہتر منصوبہ بندی اور ان میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔

ادھر شامی حکومت کے خلاف برسرپیکار جیش الحر نے پیر کے روز دارلحکومت دمشق کی 'التضامن' کالونی پر کنٹرول کا دعوی کیا ہے۔ انقلاب کوارڈی نیشن الائنس نے دارلحکومت کی 'القدم' کالونی میں شاہراہ پاکستان اور انقلاب میں سرکاری فوج اور جیش الحر کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاع دی ہے۔

دمشق میں فلسطینی مہاجر کیمپ الیرموک کے بور سعید علاقے میں بھی شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ القابون، الحجر الاسود، دف الشوک اور فلسطین کیمپ کالونیوں تک پھیل گیا ہے۔

اتوار کے روز جیش الحر کے جنگجوؤں نے مشرقی شام کے علاقے دیر الزور میں تیل کے دو کنوؤں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ کامیابی جیش الحر کو سرکاری فوج کے ساتھ خونریز جھڑپوں کے بعد ملی جس میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ شام کی ایک انسانی حقوق آبزرویٹری جیش الحر نے بشار الاسد کے حامی 40 فوجیوں کو اسیر بنا لیا۔

آبزرویٹری کے ایک بیان کے مطابق قومی انقلاب کونسل کے جعفر الطیار بریگیڈ نے مشرقی شام کے المیادین شہر کے کئی روز تک محاصرے کے بعد گلاب کے پھولوں کے فارم پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

بیان کے مطابق المیادین پر حملہ آوروں نے ایک ٹینک اور آرمڈ پرسنل کیرئیر، فوجی ٹرک اور اسلحہ کے گودام پر بھی قبضہ کیا ہے۔ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ فارم پر حملہ علی الصباح شروع ہوا۔ جنگجوؤں کے کئی گھنٹے کے آپریشن کے بعد گلاب آئل فیلڈ پر قبضہ کیا۔

حملے میں تیل کی پائپ لائن اور پمپنگ اسٹیشنز کو بھی دھماکوں سے نقصان پہنچا۔ آئل فیلڈ کے علاقے سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ گزشتہ برس مارچ سے بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جس میں حکومت مخالف شامیوں کو آئل فیلڈ پر کنڑول حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ گلاب آئل فیلڈ عراقی سرحد کے ساتھ شامی شہر دیر الزور میں تیل کے کنویں شمار ہوتے ہیں۔

شام کے اس علاقے میں خام تیل اور قدرتی گیس کے متعدد کنویں موجود ہیں جن میں کئی مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں نے تیل نکالنے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔