.

شام نے دمشق میں حماس کے دفاتر سیل کر دیے

بشار الاسد کے خلاف تحریک کی حمایت کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام نے دمشق میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے دفاتر سر بہ مہر کر دیے ہیں۔ حماس کے خلاف یہ تازہ کارروائی تنظیم کی جانب سے شامی انقلاب کے حوالے سے اختیار کردہ موقف پر دمشق کا عملی ردعمل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حماس کی جانب سے شامی حکومت کے دباؤ سے نکل جانے کے بعد دمشق حکام نے تنظیم کے بیرون ملک دفاتر پر پہلی مرتبہ دھاوا بولا اور دفتر کی تالا بندی کر دی ہے۔

دمشق کی جانب سے اپنے سابقہ حلیف تنطیم کے دفاتر کی بندش کی کارروائی سے فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ شامی حکومت کو شکوہ ہے کہ حماس نے طوطا چشمی کا مظاہرہ کیا ہے اور کئی سال کی میزبانی کا حق اداکرنے کے بجائے عوامی بغاوت کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے اپنے دفاتر غیر علانیہ طور پر قاہرہ اور عمان میں کیوں منتقل کیے ہیں۔

حماس نے شام میں عوامی بغاوت کی تحریک کے ابتدائی چند ماہ تک مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی تھی جس پر انقلاب کی حامی قوتوں کی جانب سے سخت تنقید کی بھی کی گئی تھی تاہم بعد ازاں حماس کی مرکزی قیادت بالخصوص تنطیم کے سیاسیی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور غزہ کی پٹی میں حماس کے وزیر اعطم اسماعیل ھنیہ کھل کر شامی عوام کی بغاوت کی تحریک کی حمایت کی۔

حماس کی جلاوطن قیادت نے نوے کی دہائی میں اردن سے نکالے جانے کے بعد دمشق میں اپنے مراکز قائم کیے تھے جہاں سے حماس لیڈر شپ پوری آزادی کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی مصروف رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین حماس ۔ شام، ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو باہمی حلیف قرار دیتے رہے ہیں۔

انہی قوتوں کی جانب سے حماس کی قیادت کو سرائیل کے خلاف سخت موقف اپنانے اور صہیونی ریاست سے مذاکرات کی مخالفت کی شہ ملتی رہی ہے جس کے باعث حماس کی عوامی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا اور سنہ 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں حماس نے دیرینہ سیاسی جماعت فتح کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کو بھی شام اور ایران کی جانب سے حمایت حاصل رہی ہے۔