.

طرابلس، سعودی عرب سے پہلے والے تعلقات کی بحالی چاہتا ہے

پناہ گزیں قذافی خاندان کی طرابلس حوالگی کا امکان؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبی وزیر اعظم علی زیدان نے کہا ہے کہ ہم سعودی عرب کے طرابلس کے مابین سابق مقتول آمر معمر القذافی کے دور سے پہلے والے تعلقات کی بحال کے لئے کوشاں ہیں ۔ دونوں آزاد ملکوں کے درمیان یہ تعلقات باہمی عزت و احترام پر مبنی تھے۔

سعودی عرب نے حج سیزن کے دوران لیبیا کےعازمین حج کو ویزہ کی سہولیات سے لیکر حج تک غیر معمولی پروٹوکول دیا۔ العربیہ نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر زیدان نے کہا کہ خلیجی ملکوں سے لیبیا کے خوشگوار تعلقات ہیں۔ انقلابی جدوجہد کے آغاز سے ابتک قطر اور متحدہ عرب امارات سے ہی طرابلس کو امداد ملتی رہی ہے۔

انہوں نے طرابلس اور عرب ملکوں، بالخصوص مصر، تیونس اور الجزائر، کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مؤخر الذکر کی جانب سے قذافی فیملی کو پناہ دینے کا مسئلہ ہنگامی صورتحال کا نتیجہ تھا، اسے مذاکرات کے ذریعے باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر زیدان کا کہنا تھا کہ 17 فروری کے بعد امریکا کے ساتھ لیبیا کے تعلقات انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ بہ قول لیبی وزیراعظم گیارہ ستمبر کو مشرقی شہر بنغازی میں امریکی قونصل جنرل سمیت چار دوسرے سفارتکاروں کی ہلاکت کے بعد ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امریکی سفارتکاروں کے قتل کو ہر لحاظ سے مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

لیبی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تعلقات میں بہتری کا انتظار نہیں کریں گے کیونکہ ان کا خیال میں بنغازی کی صورتحال کا تعلقات پر اثر ضرور پڑا ہے لیکن اس سے تعلقات میں تبدیلی نہیں آئی۔ امریکی عہدیدار بھی لیبیا۔واشنگٹن تعلقات کو متانت کے ساتھ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کی اصل حقیقت تک پہنچنے میں بھرپور معاونت کریں گے۔

ڈاکٹر زیدان نے مزید کہا کہ بین الاقوامی صورتحال اور انقلاب کے جلو میں ہماری نئی حکومت میں انتہائی مشکل سے بنی ہے۔ پہلی مرتبہ مختلف الخیال لوگوں کا نئی حکومت پر اتفاق کر لینا مشکل امر ہے۔ حکومت سازی کے سلسلے میں لیبیا میں جو کچھ ہوا، وہ سب متوقع تھا۔

انہوں نے لیبی پارلیمنٹ نیشنل کانگریس اور نئی حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد اور امنگوں کی خاطر مفتقہ طور پر سمجھوتہ کریں کیونکہ اب وہ سارے لیبی عوام کے نمائندے ہیں۔

سیکیورٹی کے صورتحال کے بارے میں سوال پر مسٹر زیدان نے اسے اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے انقلابیوں سمیت لیبیا میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے افراد سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے قیام امن کے لئے خود فوج میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔ انقلابیوں کی فوج میں شمولیت وطن سے وفاداری اور اہلیت کے معیار پر پورا اترنے کی صورت میں ہو گی۔