.

مقبوضہ القدس کے نواح میں یہودیوں کے لیے 1213 نئے مکانات کی تعمیر

تعمیراتی کام کے لیے ٹینڈروں کی اشاعت،پیش کشیں طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے ایک ہزار دو سو تیرہ نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے پیش کشیں طلب کرلی ہیں اور اس مقصد کے لیے منگل کو ٹینڈر شائع کیے گئے ہیں۔

اسرائیل کی ایک غیر سرکاری تنظیم ''اب امن''نے اسرائیلی وزارتِ تعمیرات ومکانات کی جانب سے شائع کردہ ٹینڈرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع دو یہودی بستیوں پسگاٹ زیف میں 607 مکانوں اور راموٹ میں 606 مکانوں کی تعمیر کے لیے پیش کشیں طلب کی گئی ہیں۔ان کے علاوہ ایک اور یہودی بستی آریل میں 72مکانوں کی تعمیر کے لیے دوبارہ ٹنیڈرز طلب کیے گئے ہیں۔

''اب امن'' مقبوضہ بیت المقدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آبادکاری کی مخالف ہے اور اس نے نئے ٹینڈروں کی مذمت کی ہے۔اس تنظیم نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہ اقدام فلسطینی صدر محمود عباس کی امن مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کش کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

اسرائیلی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ''محمود عباس نے تنازعے کے دوریاستی حل کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے لیکن اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس کا جواب ہزاروں نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کرکے دیا ہے''۔

بیان کے مطابق ''نیتن یاہو امریکا کی نئی انتظامیہ سے خوفزدہ ہیں۔انھوں نے ٹینڈروں کی اشاعت کے لیے ایک ایسے دن کا انتخاب کیا ہے جب نئے امریکی صدر کے چناؤ کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں تاکہ دنیا کی کم سے کم توجہ ان کی اس حرکت کی جانب جائے''۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندہ برائے فلسطین رچرڈ فالک نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے منفعت بخش کاروبار کرنے والی تیرہ کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں۔

انھوں نے اسرائیل پر الزام عاید کیا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں انسانی اہداف کو پوراکرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے چالیس فی صد علاقے پر اسرائیلی یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں۔قریباً چھے لاکھ اسرائیلی شہریوں (یہودیوں )کو فلسطینی علاقوں میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ان میں سے قریباً دولاکھ یہودیوں کو مقبوضہ بیت المقدس میں بسایا جاچکا ہے۔سال 2011ء میں یہودی آبادکاروں کی تعداد میں ریکارڈ پندرہ ہزار کا اضافہ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے زیرقبضہ فلسطینی علاقے غرب اردن کے کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے قائم کی گئی بستیوں کو اقوام متحدہ ،امریکا اور یورپی یونین غیر قانونی قرار دیتے چلے آرہے ہیں اور وہ انھیں مشرق وسطیٰ امن عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر1967ء کی چھے روزہ جنگ میں قبضہ کرلیا تھا اوربعد میں اس کوصہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا۔یہ شہرمسلمانوں،عیسائیوں اور یہودیوں کے کے نزدیک مقدس ہے۔اسرائیل اب اس شہر کو اپنا دارالحکومت قراردیتا ہے لیکن اقوام متحدہ اور امریکا سمیت عالمی برادری نے کبھی اسرائیل کے اس دعوے کوتسلیم نہیں کیا۔

اسرائیل القدس کو''یہودیانے''کی پالیسی پربھی عمل پیرا ہے جس کا بنیادی مقصد مقبوضہ بیت المقدس سے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو نکال باہرکرنا ہے تاکہ وہ اسے اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانے کا دعویٰ نہ کرسکیں.اسرائیل اس پالیسی کے تحت القدس سے فلسطینی آبادی جارحانہ اقدامات سے بے دخل کررہا ہے۔وہ یہودیوں کی تعداد کوبڑھارہا ہےاو اپنے اس اقدام کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

اس وقت مشرقی بیت المقدس اور اس کے نواحی علاقوں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ فلسطینی رہ رہے ہیں جبکہ دولاکھ اسرائیلیوں کو اس شہر میں لابسایا گیا ہے.اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ کسی امن سمجھوتے کے تحت اس شہر کو تقسیم کرنے یا اسے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت بنانے کے مطالبات کو مسترد کرچکی ہے جبکہ فلسطینی اسے اپنی مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔اقوام متحدہ اور مغربی قوتوں کا کہنا ہے کہ اس شہر کی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے لیکن اسرائیل مذاکرات فلسطینیوں سے مشروط مذاکرات سے انکاری ہے۔