.

ترکی نیٹو سے شامی سرحد پر پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کے لیے رجوع کا فیصلہ

نیٹو کونسل ترکی کی درخواست پر غور کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی نے معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو سے شام کے ساتھ واقع اپنی سرحد پر پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کے لیے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان سلجوک انال نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کے ایشو کو ترکی اور نیٹو کے علاقے کی سکیورٹی کے حوالے سے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا''۔

ترجمان نے کہا کہ ترکی کو شام کی جانب سے میزائل حملے کے ممکنہ خطرے کا سامنا ہے اور ترکی کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا حق حاصل ہے۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

ایک اور ترک عہدے دار کا کہنا تھا کہ ''کسی رکن ملک کو درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے نیٹو کے تحت اس طرح کے میزائلوں کی تنصیب ایک معمول کا معاملہ ہے اور ترکی میں یہ میزائل 1990ء کی دہائی میں خلیجی جنگ کے دوران بھی نصب کیے گئے تھے''۔

ادھر برسلز میں نیٹو کی خاتون ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں ابھی تک ترکی کی جانب سے میزائلوں کی تنصیب سے متعلق درخواست موصول نہیں ہوئی اور جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے گذشتہ سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ''شمالی اوقیانوس کونسل کو موصول ہونے والی ایسی کسی درخواست پر اتحادی ممالک غور کریں گے''۔

ترکی نیٹو کا واحد اسلامی رکن ملک ہے اور تنظیم کے دوسرے ممالک اپنے اس اتحادی کو درپیش کسی بیرونی جارحیت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کی مدد کے پابند ہیں۔ شام کے سرحدی علاقے سے حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ ترکی کی جانب گولہ باری اور فائرنگ کی گئی ہے جس کے بعد ترکی نے سرحدی علاقے میں اپنی فوج کی نقل وحرکت میں اضافہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج نے اکتوبر کے اوائل میں سرحد پار ترکی کے علاقے آکچاقلعے میں گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں پانچ ترک شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ بعد میں شام نے ترکی کے سرحدی علاقے میں گولہ باری پر معذرت کی تھی اور کہا تھا کہ آیندہ اس طرح کے واقعے کا اعادہ نہیں ہو گا۔

ترکی کی پارلیمان نے اس واقعہ کے بعد حکومت کی درخواست پر شام کی سرحد کے ساتھ فوجی دستوں کی تعیناتی اور اس کے سرحدی علاقے میں کسی جارحیت کی صورت میں فوج کو کارروائی کرنے کی منظوری دی تھی۔ ترک حکومت نے پارلیمان سے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ شامی فوج کے جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں ترکی کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔