.

شامی علاقے سے فائر کیا گیا مارٹر بم گولان کی پہاڑیوں پر جا گرا

خانہ جنگی اسرائیل کے زیر قبضہ شامی علاقے تک پھیل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے سرحدی علاقے میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران فائر کیا گیا ایک مارٹر بم اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر آن گرا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ مارٹر بم ایک اسرائیلی گاؤں میں گرا ہے اور یہ پھٹا نہیں جس کی وجہ سے اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔اسرائیل کے ایک فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں چند مارٹر گولے فائر کیے گئے تھے لیکن ان کا نشانہ کوئی اسرائیلی ہدف نہیں تھا بلکہ وہ غلطی سے ادھر آگرے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع شام کے علاقے میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پہلے بھی اس علاقے سے فائر کیے گئے گولے سرحد پار جا کر گرے ہیں۔

اسرائیل کے داخلی محاذ کے وزیر ایوی ڈچر کا کہنا ہے کہ ''اسرائیل کو ا س وقت لوہے کے اعصاب کی ضرورت ہے''۔انھوں نے اپنے فیس بُک کے صفحے پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ مارٹر گولے فائر کرنے والوں کا تعین بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ شامی فوج اور باغی جنگجو دونوں ہی ایک دوسرے پر گولہ باری کررہے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ ''ہمیں اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں اور اسرائیل کے دفاعی حکام کو بہت ہی ذمے دارانہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے''۔

گذشتہ ہفتے کے روز شامی فوج کے تین ٹینک گولان کی پہاڑیوں کے غیر فوجی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔اس پر صہیونی ریاست نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا تھا اور اسے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد سے اسرائیلی فوج کی گاڑیوں پر مبینہ طور پر شام کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی ہے اور غیر فوجی علاقے میں مارٹر بم گرے ہیں۔اس کے علاوہ ایک بارودی سرنگ کا بھی دھماکا ہوا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان تمام واقعات کا مقصد اسرائیل کو ہدف بنانا نہیں تھا جبکہ صہیونی فوج کے سربراہ جنرل بینی گانٹز نے گذشتہ اتوار کو ایک بیان میں گولان کی چوٹیوں پر تعینات فوجیوں کو خبردار کیا تھا کہ ''یہ شامی ایشو ہے اور یہ ہمارا ایشو بھی بن سکتا ہے''۔

یادرہے کہ اسرائیل نے شام کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے گولان کی چوٹیوں پر 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔دونوں نے 1974ء میں یوم کپور کی جنگ کے بعد فائربندی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک ٹیکنیکل طور پر حالت جنگ میں ہیں۔اسرائیل نے اس علاقے کو 1981ء میں اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا۔